بیرون ملک ملازمت کے لیے ای پروٹیکٹر سرٹیفکیٹ لازمی؟ بیورو نے سب واضح کر دیا

اسلام آباد: بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BOIE) نے بیرون ملک ملازمت کے لیے نئے آن لائن پروٹیکٹر (ای پروٹیکٹر) سرٹیفکیٹ کے حوالے سے گردش کرتی افواہوں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔

سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی معلومات میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یکم فروری 2026 سے بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے تمام افراد کے لیے ای پروٹیکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

ساتھ ہی یہ خبریں بھی گردش کر رہی تھیں کہ جن افراد کے پاسپورٹ پر پہلے سے پروٹیکٹر اسٹیکر یا مہر موجود ہے، ان کے لیے بھی ای پروٹیکٹر سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا۔

بیورو آف ایمیگریشن نے واضح کیا کہ یہ دعوے بے بنیاد اور جھوٹے ہیں اور حکومت یا متعلقہ حکام کی جانب سے اس نوعیت کا کوئی نیا طریقہ کار جاری نہیں کیا گیا۔

بیورو نے تمام شہریوں، خصوصاً بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد سے گزارش کی ہے کہ وہ افواہوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے صرف سرکاری اور مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات پر اعتماد کریں۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا میں کسی بڑے آپریشن یا گورنر راج کا فیصلہ نہیں ہوا، خواجہ آصف

بیورو نے زور دیا کہ قومی سطح پر لاکھوں افراد تک پہنچنے والے پیغامات میں ذمہ داری، احتیاط اور سچائی کی پاسداری ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مزید کہا گیا کہ شہری اس وضاحت کو دوسروں تک پہنچائیں تاکہ غلط فہمیوں کا فوری ازالہ ہو اور کوئی بھی فرد بلاوجہ پریشانی کا شکار نہ ہو۔

بیورو کے مطابق بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کے لیے موجودہ قوانین اور طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور سرکاری ویب سائٹ یا بیورو کے متعلقہ دفاتر سے تصدیق شدہ معلومات ہی قابلِ اعتماد ہیں۔

Scroll to Top