بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان (بلوچ لبریشن آرمی) کے پاکستان مخالف بزدلانہ حملوں کے منصوبے کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا ہے۔ مختلف اضلاع میں ہونے والے ہم آہنگ دہشت گردانہ حملوں میں سکیورٹی فورسز نے 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک کر دیے، جبکہ عوامی زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔
پاک فوج کے تعلقات عامہ کے شعبہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ کوئٹہ، نوشکی، دالبندین، قلات، گوادر، پسنی، تربت اور دیگر علاقوں میں دہشت گردوں نے بیک وقت سکیورٹی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، مگر سکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے ان کے عزائم خاک میں ملا دیے۔
اہم جھڑپیں اور کارروائیاں
کوئٹہ (سریاب روڈ): دہشت گردوں نے پولیس وین کو نشانہ بنایا، تاہم ایف سی اور پولیس کے فوری ردعمل سے چار دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
نوشکی: ایف سی ہیڈکوارٹر پر فائرنگ کی گئی، لیکن الرٹ فورسز کی بھرپور کارروائی کے بعد حملہ ناکام رہا۔
دالبندین: خودکش حملے کی کوشش ناکام بنا دی گئی، علاقے کو گھیرے میں لے کر فائرنگ کا تبادلہ کیا گیا۔
قلات: ڈپٹی کمشنر آفس اور پولیس لائنز پر حملے ناکام بنائے گئے، دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچا اور کلیئرنس آپریشن جاری رہا۔
پسنی اور گوادر: کوسٹ گارڈ اور سیکیورٹی اہلکاروں نے تنصیبات اور مزدور کالونی پر حملے ناکام بنائے، فائرنگ کے تبادلے میں دہشت گرد پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔
دیگر علاقے: بالچہ، تمپ، مستونگ، بیسیما، رودھبن، پھلاباد، گومزئی، مالانٹ اور کاسانو میں گرینیڈ حملے اور دور سے فائرنگ کی گئی، مگر تمام حملے ناکام بنا دیے گئے۔
سکیورٹی فورسز کی کامیابی اور عوامی تحفظ
سکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ خاران میں 6، دالبندین میں 5، مند میں 6 اور تربت میں 7 دہشت گرد مارے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں کی ہر حرکت پر فوری اور مؤثر جواب دیا، جبکہ متعدد دہشت گرد ہٹ اینڈ رن کارروائیوں میں ناکام ہوئے۔
ذرائع کے مطابق آج صبح 12 مختلف مقامات پر کیے گئے حملے مکمل ناکام ہوئے، جس میں 37 بی ایل اے دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ 10 سکیورٹی جوان شہید اور متعدد زخمی بھی ہوئے۔ گزشتہ 48 گھنٹوں میں مجموعی طور پر 100 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جو حالیہ جھڑپوں میں مارے گئے دہشت گردوں کے علاوہ ہیں۔
دہشت گردوں کی پشت پناہی اور پسپا ہونا
حکام نے بتایا کہ ان کارروائیوں میں ملوث دہشت گرد بھارت کی سرپرستی اور افغانستان کے راستے سہولت کاری کے تحت سرگرم تھے۔ سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ بی ایل اے کے بلوچستان پر کنٹرول کے دعوے سراسر جھوٹ اور من گھڑت پروپیگنڈا ہیں، جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔
بلوچستان کے تمام شہر، بشمول کوئٹہ، مکمل طور پر سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہیں۔ عوام کی زندگی معمول کے مطابق جاری ہے اور دہشت گردوں کی ہر کوشش بروقت اور مؤثر کارروائی سے ناکام بنا دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں بلوچستان میں امن و استحکام قائم رکھنے اور دہشت گردی کے ہر اقدام کا فیصلہ کن جواب دینے کی عزم کا مظہر ہیں۔





