وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کارروائیوں کو کسی صورت حقوق کی جدوجہد قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی ہے جس کا نشانہ نہ صرف پاکستان بلکہ خود بلوچستان کے عوام بھی ہیں۔
ایکس پر اپنے پیغام میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ عناصر نہ امن برداشت کرتے ہیں اور نہ ہی ترقی، اسی لیے دہشتگرد مزدوروں، مسافروں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، ان کا مقصد ترقیاتی منصوبوں اور روزگار کے مواقع کو تباہ کرنا ہے۔
وزیرِ دفاع نے کہا یہ دہشتگرد گروہ منشیات پر مبنی معیشت، بھتہ خوری اور سمگلنگ کے ذریعے مالی وسائل حاصل کرتے ہیں، جبکہ سی پیک جیسے اہم قومی منصوبوں کے خلاف سازشوں میں بھی ملوث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے دہشتگردی کی تشہیر اور نوجوانوں کی بھرتی بھی ان گروہوں کے ہتھکنڈوں میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چندسرفرازبگٹی اورہوتے تودہشت گردی دنوں میں ختم ہوچکی ہوتی، محسن نقوی کی وزیراعلیٰ بلوچستان کی تعریف
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ریاست پوری طرح پرعزم ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مورال بلند ہے اور دہشتگردوں، ان کے سہولت کاروں اور بیرونی ہینڈلرز کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، انشاء اللہ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جائے گا۔





