نوشکی : اعلیٰ ترین انٹیلیجنس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کی جانب سے بشیر زیب کی موٹر سائیکل سواروں کے ہمراہ وائرل کی جانے والی ویڈیو حالیہ نہیں بلکہ دو ماہ قبل افغانستان میں ریکارڈ کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق اس ویڈیو کو گمراہ کن پروپیگنڈے کے طور پر سوشل میڈیا پر دوبارہ پھیلایا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ویڈیو کا پاکستان میں حالیہ سکیورٹی صورتحال یا کسی تازہ کارروائی سے کوئی تعلق نہیں، تاہم کالعدم تنظیم کی جانب سے اسے موجودہ حالات سے جوڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ضلع نوشکی کے علاقے قادرآباد میں سکیورٹی فورسز نے ایک ناکام دہشت گرد حملے کے بعد بی ایل اے کے ایک دہشت گرد کو گرفتار کر لیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق بروقت کارروائی کے باعث بڑا نقصان ٹل گیا۔
گرفتار دہشت گرد کی ایک ویڈیو بھی منظرِ عام پر آئی ہے جس میں وہ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کی حراست میں نظر آتا ہے۔
ویڈیو میں گرفتار ملزم نہ صرف معافی مانگتا دکھائی دیتا ہے بلکہ کالعدم تنظیم کے سربراہ بشیر زیب کو سخت اور نازیبا گالیاں بھی دیتا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ ویڈیو بی ایل اے کی اندرونی کمزوریوں، تنظیمی انتشار اور قیادت کے خلاف پائے جانے والے غم و غصے کو بے نقاب کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : قادرآباد نوشکی میں ناکام حملے کے بعد گرفتار بی ایل اے دہشت گرد کی بشیر زیب کو گندی گالیاں
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد عوام کے سامنے آنا اس بات کا ثبوت ہیں کہ کالعدم تنظیم اپنے ہی کارکنان کا اعتماد کھو چکی ہے۔
مقامی انتظامیہ نے علاقے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے جبکہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری ہدایات پر مکمل عمل کریں۔
انتظامیہ کے مطابق سکیورٹی ادارے علاقے میں مکمل طور پر الرٹ ہیں اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔





