وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی آمد دیر سے سہی، مگر درست ہے اور ان کی آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔
امیر مقام نے بتایا کہ سہیل آفریدی کا خیرمقدم کیا گیا اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا، “ہم سب اپنی جماعتوں اور سیاسی وابستگیوں کے باوجود ایک پاکستان کا حصہ ہیں اور قومی مفادات پر اتفاق ناگزیر ہے۔”
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سے دہشت گردی کے معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ سہیل آفریدی نے خود اعتراف کیا کہ بعض علاقوں میں دہشت گردوں نے لوگوں کے گھروں پر قبضہ کر لیا ہے، جو کہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
امیر مقام نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا تھا اور موجودہ حالات میں بھی ہمیں اپنی سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر قومی سلامتی کو ترجیح دینی ہوگی۔ “ملکی مفادات کے لیے سیاسی اختلافات پسِ پشت ڈالنا ناگزیر ہے،”
وفاقی وزیر نے بتایا کہ ملاقات میں سہیل آفریدی نے صوبے کے مالی مسائل اور وفاق پر واجب الادا ذمے داریوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ امیر مقام نے کہا کہ وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ خیبرپختونخوا کو زیادہ سے زیادہ وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ ترقیاتی منصوبے اور عوامی فلاحی کام بروقت مکمل ہوں۔
امیر مقام کا کہنا تھا کہ مسائل کا حل صرف باہمی مشاورت اور مل بیٹھ کر بات کرنے سے ممکن ہے کیونکہ یہی طریقہ کار معاملات کو آگے بڑھانے اور مسائل کا عملی حل نکالنے کے لیے مؤثر ہے۔





