سونے کے بعد تیل کی قیمتوں میں بھی زبردست گراوٹ، عالمی معیشت کیلئے نئے خدشات پیدا ہو گئے

سونے کے بعد تیل کی قیمتوں میں بھی زبردست گراوٹ، عالمی معیشت کیلئے نئے خدشات پیدا ہو گئے

عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں کمی کے بعد اب تیل کی قیمتیں بھی نمایاں کمی کا شکار ہو گئی ہیں، جس سے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے

بین الاقوامی تجارتی رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل 67 ڈالر فی بیرل اور امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 63 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کی بنیادی وجوہات میں عالمی معاشی سست روی کے خدشات، تیل کی طلب میں کمی، اور بڑے پیداواری ممالک کی پالیسیوں سے متعلق غیر یقینی صورتحال شامل ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور یورپ میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت مالی پالیسیوں کے نفاذ کے باعث صنعتی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں، جس سے توانائی کی عالمی طلب متاثر ہو رہی ہے۔ اسی طرح چین میں معاشی بحالی کی رفتار توقع کے مطابق نہیں رہی، جس کا بھی تیل کی عالمی طلب پر اثر پڑا ہے۔

دوسری جانب اوپیک پلس کے مستقبل میں پیداوار کے حوالے سے واضح حکمت عملی نہ دینے کی وجہ سے سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی معیشت پر مزید دباؤ پڑا تو تیل کی قیمتوں میں مزید کمی دیکھنے میں آ سکتی ہے، جس سے توانائی کی منڈی اور سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔

ماہرین اقتصادیات کا مزید کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر ترقی پذیر ممالک پر دوہرا ہو سکتا ہے۔ ایک طرف جہاں درآمدی بل میں کمی سے عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف ملے گا، وہیں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری متاثر ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جس کے بعد عالمی اجناس کی مجموعی صورتحال سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

Scroll to Top