ایپسٹین فائلز کا تہلکہ، عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے نام بھی منظرعام پر آ گئے

ایپسٹین فائلز کا تہلکہ، عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے نام بھی منظرعام پر آ گئے

عالمی میڈیا میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں کیونکہ امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی تازہ دستاویزات، جنہیں “ایپسٹین فائلز” کا نام دیا گیا ہے، میں پاکستان سے متعلق چند حوالہ جات بھی شامل ہیں۔ ان فائلز میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے نام بھی دکھائی دے رہے ہیں، اگرچہ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حوالہ جات محدود اور زیادہ تر سرسری نوعیت کے ہیں۔

ایپسٹین فائلز سزا یافتہ امریکی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق نیٹ ورک، ملاقاتوں، خطوط اور ای میل خط و کتابت پر مشتمل ہیں، جس میں دنیا بھر کی سیاستدان، کاروباری شخصیات اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کے نام شامل ہیں۔ تاہم ان فائلز میں ہر نام کا اثر یا کردار یکساں نوعیت کا نہیں بتایا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، بعض ای میلز میں ایپسٹین اور بل گیٹس ٹیم کے درمیان پولیو کے خاتمے کے پروگرام پر بات چیت بھی شامل تھی، جس میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے سابق مشیر بورس نیکولک کا ذکر بھی موجود ہے۔ ایک ای میل میں پاکستان اور نائیجیریا میں پولیو ٹیموں پر حملوں کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا اور ممکنہ کردار کے متعلق سوال اٹھایا گیا۔

اسی طرح ایک اور ای میل میں بورس نیکولک اور ایپسٹین کے درمیان بات چیت میں یہ ذکر آیا کہ بل گیٹس پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والی خبر سے ناخوش تھے، جس میں عمران خان سے فون پر ممکنہ گفتگو کا ذکر تھا۔ رپورٹس کے مطابق خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اس قسم کی خبریں پولیو مہم کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔

فائلز میں 2010ء کی ایک ای میل بھی شامل ہے، جس میں جیفری ایپسٹین اور جے پی مورگن کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے درمیان بات چیت کے دوران پاکستان کے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ذکر کیا گیا۔ علاوہ ازیں، ستمبر 2018 میں جیڈ زیٹلِن نے ایپسٹین کو لکھا کہ ان کے خیال میں عمران خان کی قیادت سست رفتار کار حادثے سے مشابہ ہے، خواہ انہیں چین کی حمایت حاصل ہو یا نہ ہو۔

پاکستان سے متعلق چند غیر سیاسی حوالہ جات بھی فائلز میں شامل ہیں، جن میں ایپسٹین کو پاکستانی شلوار قمیض کے لیے پسند کا اظہار کرنا اور پاکستان سے 5 جوڑوں کی ملبوسات کی جلدی شپمنٹ کی اطلاع دینا شامل ہے۔

ایپسٹین فائلز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام بھی کئی مرتبہ آئے، تاہم انہوں نے نئی دستاویزات میں اپنے خلاف کوئی غیر قانونی سرگرمی نہ ہونے کا مؤقف اختیار کیا اور الزامات سے بریت حاصل کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایپسٹین فائلز میں شامل تمام ناموں کو ایک ہی زاویے سے دیکھنا درست نہیں، اور پاکستان سے متعلق حوالہ جات محدود اور زیادہ تر ای میل خط و کتابت تک محدود ہیں۔ تاہم عالمی سطح پر اس کے اجرا نے طاقتور حلقوں کے تعلقات اور روابط پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

Scroll to Top