اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے واضح کیا ہے کہ پارٹی نے مشال یوسفزئی کے خلاف 8 فروری کے بعد سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف ایک منظم انداز میں مہم چلائی جا رہی ہے۔
انہوں نے اس ضمن میں سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کے عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے پر کس کو دکھ ہوا اور کون ایسا نہیں چاہتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے کا طریقہ کار سب کے سامنے ہے، اور انہوں نے ہمیشہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے آفریدی کے ساتھ کھڑا رہنے کا موقف اختیار کیا ہے۔
اسی حوالے سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بھی موقف اختیار کیا کہ مشال یوسفزئی، جن کی ہدایات پر کئی لوگ کام کر رہے ہیں، اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہیں، تاہم انہیں لگتا ہے کہ مشال یوسفزئی عمران خان کی خیرخواہ نہیں ہیں۔
پی ٹی آئی کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر ہونے والی سرگرمیوں اور فیصلوں پر کسی بھی بیرونی مداخلت یا منفی مہم کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور قانون کے مطابق تمام اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں، گزشتہ تین دن میں 197 دہشت گرد ہلاک، 22 جوان شہید
اس اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں کہ پارٹی میں آنے والے فیصلوں اور ممکنہ سخت کارروائی کے اثرات کیا ہوں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کی یہ حکمت عملی پارٹی کے اندر یکجہتی قائم رکھنے اور بیرونی دباؤ سے نمٹنے کی کوشش ہے۔





