کوئٹہ: بلوچستان کے وزیرِ زراعت و کوآپریٹو میر علی حسن زہری نے صوبائی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے میر علی حسن زہری نے اپنا استعفیٰ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کو ارسال کر دیا ہے، جس پر حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد متوقع ہے۔
میر علی حسن زہری نے اپنے استعفیٰ میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ وقت کی کمی کے باعث صوبے کے زرعی شعبے پر وہ توجہ نہیں دے سکے جو اس اہم محکمے کی ضرورت تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ بلوچستان کے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے، اسی لیے اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ استعفیٰ کے پس منظر میں دیگر عوامل بھی شامل ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق میر علی حسن زہری نے اپنے استعفیٰ میں یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے ان کے حلقے میں بار بار مداخلت کی جا رہی تھی۔
جس پر انہوں نے احتجاجاً وزارت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لینے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
سیاسی حلقوں میں اس استعفے کو وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے لیے ایک اور بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ صوبائی حکومت کے اندرونی معاملات پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مشال یوسفزئی کا سیاسی مستقبل خطرے میں، پی ٹی آئی کا موقف سامنے آ گیا
واضح رہے کہ میر علی حسن زہری بلوچستان کے ایک سینئر اور بااثر سیاست دان ہیں۔ وہ اس سے قبل آصف علی زرداری کے ترجمان برائے بلوچستان کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور مشیرِ صنعت و حرفت بھی رہ چکے ہیں۔
بطور صوبائی وزیرِ زراعت، ان کا شمار کابینہ کے اہم اراکین میں ہوتا تھا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ میر علی حسن زہری کے استعفے پر مشاورت جاری ہے اور جلد اس حوالے سے حتمی فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔





