اسلام آباد: پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریباً ایک لاکھ پچانوے ہزار کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (سی این آئی سیز) بلاک کیے ہیں، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مختلف نوعیت کے مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ تفصیلات وزارتِ داخلہ کی جانب سے سینیٹ کو فراہم کی گئی تحریری رپورٹ میں سامنے آئیں۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ قومی شناختی کارڈز خیبر پختونخوا میں بلاک کیے گئے، جہاں یہ تعداد 72 ہزار 703 رہی۔
سندھ میں 49 ہزار 666 شناختی کارڈز معطل کیے گئے، جبکہ پنجاب میں 29 ہزار 852 اور بلوچستان میں 34 ہزار 990 قومی شناختی کارڈز بلاک ہونے کی اطلاع دی گئی۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 5 ہزار 731 شناختی کارڈز بلاک کیے گئے۔ اسی طرح آزاد جموں و کشمیر میں ایک ہزار 410 جبکہ گلگت بلتستان میں 758 قومی شناختی کارڈز معطل کیے گئے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق مجموعی طور پر ایک لاکھ 30 ہزار 885 قومی شناختی کارڈز نادرا آرڈیننس کے سیکشن 18 کے تحت بلاک کیے گئے، جبکہ 64 ہزار 225 شناختی کارڈز عدالتی احکامات کی بنیاد پر معطل کیے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد 46 ہزار سے زائد بلاک شدہ شناختی کارڈز بحال کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : وزیرِ زراعت علی حسن زہری نے بلوچستان کابینہ سے استعفیٰ دے دیا
حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی ملک بھر میں ایک لاکھ 48 ہزار سے زائد قومی شناختی کارڈز بلاک ہیں، جن پر مختلف نوعیت کی تحقیقات جاری ہیں۔
نادرا کے مطابق بیشتر کیسز میں غلط یا نامکمل معلومات کی فراہمی، دوہری رجسٹریشن، یا قانونی معاملات حل نہ ہونے کے باعث شناختی کارڈز بلاک کیے گئے۔
وزارتِ داخلہ کے حکام کے مطابق شناختی نظام کو شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے ڈیٹا کی تصدیق کا عمل مزید سخت کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل سے بچا جا سکے۔





