رکن پارلیمنٹ شیرافضل مروت نے اتوار کے روز پہیہ جام ہڑتال اور احتجاج کے اعلان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اتوار کو ویسے ہی عام تعطیل ہوتی ہے، ایسے میں اس دن پہیہ جام ہڑتال کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیرافضل مروت کا کہنا تھا کہ اگر بانی پاکستان تحریک انصاف سے ان کی بہنوں کی ملاقات آٹھ فروری سے قبل ہو جاتی ہے تو بانی پی ٹی آئی کی جانب سے یہ واضح پیغام آنا چاہیے کہ اتوار کے روز کس نوعیت کی پہیہ جام ہڑتال اور احتجاج کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس دن تو پہلے ہی چھٹی ہوتی ہے۔
شیرافضل مروت نے کہا کہ عمران خان کو پہلی فرصت میں رہا کیا جانا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اس وقت سب سے بنیادی اور فوری تقاضا عمران خان کی رہائی ہے اور اس معاملے کی اہمیت کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں عمران خان کی رہائی ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔
رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ اگر ان کی عمران خان سے ملاقات ہوتی ہے تو وہ تمام تحفظات اور شکایات ان کے سامنے رکھیں گے، تاکہ پارٹی اور سیاسی صورتحال کے حوالے سے واضح حکمت عملی طے کی جا سکے۔
شیرافضل مروت کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں اتوار کے روز احتجاج اور پہیہ جام ہڑتال کی افادیت پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے بھی مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔





