وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں پنجاب کی تقدیر بدل دی گئی، جبکہ خیبر پختونخوا آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کے پی کی کارکردگی صفر ہے اور وہاں صرف “شعور” کے نعرے لگا کر عوام کو بہلایا جا رہا ہے۔
راجن پور میں الیکٹرک بس کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام جب سوال کرتے ہیں تو انہیں کہا جاتا ہے کہ ہم نے آپ کو شعور دیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عوام دواؤں، روزگار اور سہولتوں کے بجائے شعور کھائیں گے؟ مریم نواز نے کہا کہ عملی اقدامات کے بغیر صرف دعوؤں سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایک الگ شعور ورکرز کے لیے ہے اور ایک الگ حکمرانوں کے بچوں کے لیے۔ آج پی ٹی آئی کے ورکرز اور ووٹرز جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں، جبکہ حکمرانوں کے بچے بیرون ملک، خصوصاً برطانیہ میں آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ دوہرا معیار عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کہا جاتا ہے ایک وزیراعلیٰ اڈیالہ جیل کے باہر کھڑی ہے اور دوسری جہاز لے کر پھرتی ہے، تو پھر سب کو جہاز دے دیں، لیکن سوال یہ ہے کہ لے کر جائیں گے کہاں؟ ان کے مطابق اصل بات کارکردگی کی ہے، اگر کام ہوا ہوتا تو منصوبے گنوائے جاتے۔
مریم نواز نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی کام کیا گیا ہوتا تو وہ اپنے ترقیاتی منصوبے عوام کے سامنے رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک بچی نے سوال کیا تو جواب میں کہا گیا کہ لگتا ہے آپ اپوزیشن سے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سوال کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جا رہا۔
اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ پنجاب نے پنجاب حکومت کے فلاحی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ صوبے بھر میں 3 سے 5 ایکڑ سرکاری زرعی زمین غریب اور مستحق افراد کو دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض حکومتیں عوام کے حقوق اور خوشیاں کھا جاتی ہیں، جبکہ پنجاب حکومت عوام کو بااختیار بنانے پر یقین رکھتی ہے۔
مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں صحت، ٹرانسپورٹ، تعلیم اور سماجی بہبود کے شعبوں میں نمایاں بہتری آئی ہے اور یہی وجہ ہے کہ عوام خود فرق محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو سال میں پنجاب کو بدلنا ممکن ہوا ہے تو خیبر پختونخوا میں یہ کیوں ممکن نہیں؟
وزیراعلیٰ پنجاب کے ان بیانات کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا حکومت پر کارکردگی کے حوالے سے دباؤ بھی بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔





