وفاق پر خیبرپختونخوا کے واجبات کی تفصیلات سامنے آگئیں

خیبرپختونخوا حکومت نے وفاق کے ذمے واجبات کے تفصیلی اعداد و شمار محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے ذریعے جمع کروا دیے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق صوبے کے مختلف منصوبوں کے لیے وفاق کے ذمے کل 4758 ارب روپے واجب الادا ہیں۔

وفاقی حکومت نے مجموعی طور پر 5,365 ارب روپے مختص کیے جن میں سے صرف 603 ارب روپے جاری کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں : کوہستان کرپشن سکینڈل میں بڑی پیش رفت

2019 میں فاٹا کے انضمام کے بعد این ایف سی کے حصے میں اضافہ ہوا تاہم این ایف سی کی مد میں 1,375 ارب روپے مختص ہونے کے باوجود ایک پائی بھی جاری نہیں ہوئی۔

اے آئی پی کی مد میں 700 ارب روپے مختص کیے گئے، جن میں سے 531 ارب روپے ابھی تک وفاق کی جانب سے جاری نہیں ہوئے۔

پی ایس ڈی پی کے لیے 178 ارب روپے مختص ہوئے، جن میں سے 54 ارب روپے واجب الادا ہیں، جبکہ ضم اضلاع کے جاری بجٹ کے لیے 79 ارب روپے وفاق کے ذمے باقی ہیں۔

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لیے 63 ارب روپے کا وعدہ کیا گیا جس میں ساڑھے تین ارب روپے ابھی تک واجب الادا ہیں۔ نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی مد میں 2017 سے 2025 تک وفاق کے ذمے 2,252 ارب روپے ہیں۔

چشمہ رائٹ بینک کینال کے لیے وفاقی حکومت نے 3 ارب 90 کروڑ روپے مختص کیےمگر ایک پائی بھی جاری نہیں ہوئی۔

اس کے علاوہ، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 197 ارب روپے اور ونڈ فال لیوی کی مد میں 130 ارب روپے وفاق کے ذمے واجب الادا ہیں۔

Scroll to Top