کینسر کے عالمی دن 2026 کے موقع پر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) نے پاکستان کے تمام صوبوں اور علاقوں کے مریضوں کو کینسر کی تشخیص اور علاج کی قابل رسائی، سستی اور جدید ترین سہولیات فراہم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیاہے۔
کینسر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں صحت عامہ کے ایک بڑے چیلنج کے طور پر ابھر رہا ہے۔ عالمی سطح پر، کینسر ہر سال تقریباً 10 ملین جانوں کے زیاں کا باعث بنتا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ 180,000 سے زائد کینسر کے نئے کیس سامنے آتے ہیں، جن میں زیادہ تر مریض ایڈوانس سٹیج میں ہسپتال آتے ہیں۔
پی اے ای سی کا 21 اٹامک انرجی کینسر ہسپتالوں پر مشتمل ملک گیر نیٹ ورک پاکستان میں کینسر کے تقریباً 80 فیصد مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرتا ہے، جس کے باعث یہ پبلک سیکٹر میں کینسر کی دیکھ بھال فراہم کرنے والا ملک کا سب سے بڑا ادارہ بن کر ابھرا ہے۔
یہ ہسپتال ہر سال 45,000 سے زیادہ نئے مریضوں کی دیکھ بھال کے علاوہ سالانہ تقریباً 10 لاکھ مریضوں کو تشخیص و علاج کی سہولیات فراہم کرتے ہیں، جو مریضوں کے سماجی و اقتصادی پس منظر سے قطع نظر محض زندگیاں بچاتے ہیں۔
پی اے ای سی کینسر ہسپتال پورے ملک میں اس موذی مرض کی خصوصی دیکھ بھال تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے اسٹریٹجک طور پر قائم کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں، لاہور، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور اور گوجرانوالہ میں قائم ہسپتال مریضوں کی ایک بڑی تعداد کی طبی ضروریات پوری کررہے ہیں ۔
سندھ میں کراچی، جامشورو، نوابشاہ اور لاڑکانہ کے اٹامک انرجی کینسر ہسپتال شہری مراکز کے ساتھ ساتھ اندرون اضلاع کے مریضوں کو جدید تشخیصی امیجنگ، ریڈیو تھراپی اور کیموتھراپی کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں، پشاور، ایبٹ آباد اور سوات میں کمیشن کے کینسر ہسپتال صوبے کے مریضوں کی خدمت کرتے ہیں جس سے مریضوں کے علاج کے لیے دوسرے صوبوں کا سفر کرنے کی ضرورت میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔
بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں اٹامک انرجی کینسر ہسپتال ایک ایسے خطے میں خصوصی آنکولوجی خدمات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جو تاریخی طور پر صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کے حوالے سے پسماندہ رہا ہے۔
اسی طرح، حال ہی میں مظفر آباد، آزاد جموں کشمیر میں واقع کینور ہسپتال کا افتتاح کیا گیا ہے، جو دور دراز اور پہاڑی علاقوں سے آنے والے مریضوں کے لیے بروقت تشخیص اور علاج کو یقینی بنارہا ہے جبکہ گلگت میں اٹامک انرجی کینسر ہسپتال کی موجودگی نے پاکستان کے جغرافیائی طور پر دشوار ترین علاقوں کے لیے کینسر کی تشخیص و علاج کی خدمات تک رسائی کو بہتر بنایا ہے۔
اٹامک انرجی کمیشن کے یہ ہسپتال صرف علاج کے مراکز نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے لیے زندگی اور امید کی علامت ہیں جو بصورت دیگر کینسر کی خصوصی دیکھ بھال تک بہت کم یا کوئی رسائی نہ رکھتے تھے۔
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی زیرِ نگرانی سرگرم عمل یہ کینسر ہسپتال جدید ترین ٹیکنالوجیز سے لیس ہیں، بشمول پیٹ سی ٹی اور سپیکٹ سی ٹی ، ریڈیو فارماسیوٹیکل پروڈکشن کے لیے سائکلوٹرون، لینیر ایکسلریٹر، بریکی تھراپی یونٹ، اور جدید ریڈیو تھراپی تکنیک جیسے آئی ایم ار ٹی، وی ایم اے ٹی اور سائبر نائف، جامع پیتھالوجی اور لیبارٹری کی خدمات درست تشخیص، اسٹیجنگ اور فالو اپ کیئر میں مزید معاونت کرتی ہیں۔
پاکستان میں تربیت یافتہ آنکولوجی پروفیشنلز کی شدید کمی کو پورا کرنے کے لیے، کمیشن، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (پیاس) یونیورسٹی میں پوسٹ گریجویٹ تربیتی پروگراموں کے ذریعے انسانی وسائل کی ترقی اور صلاحیت سازی میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔
بین الاقوامی سطح پر، نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اور ریڈیو تھراپی انسٹی ٹیوٹ (نوری)، اسلام آباد کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اینکر سینٹر کے طور پر نامزد کیا ہے، جس نے کینسر کی دیکھ بھال، تربیت اور تحقیق میں اس کی مہارت کو تسلیم کیا گیا ہے، اور کینسر پر قابو پانے کی عالمی کوششوں میں پاکستان کے تعاون کو تقویت دی ہے۔
کینسر کے عالمی دن کے موقع پر، پی اے ای سی نے اس بات پر زور دیا کہ آگاہی اور جلد تشخیص کینسر سے متعلق اموات کو کم کرنے کے لیے سب سے زیادہ موثر ہیں۔ کمیشن نے مضبوط عوامی آگاہی مہموں، خاص طور پر چھاتی اور سروائیکل کینسر کے لیے منظم اسکریننگ پروگراموں کی توسیع اور کینسر کے خطرے کو کم کرنے کے لیے صحت مند طرز زندگی کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیشن نے اس بات کو یقینی بنانے کے اپنے عہد کی تجدید کی ہے کہ کسی بھی پاکستانی کو فاصلے، لاگت یا آگاہی کی کمی کی وجہ سے کینسر کی بروقت اور معیاری دیکھ بھال سے محروم نہیں رہنے دیا جائے گا۔





