شیراز احمد شیرازی
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خیبرپختونخوا میں ہونے والے اجلاس کے دوران اراکین کی غیر حاضری نے سیاسی تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے کوآرڈینیٹر محمد ریاض نے پارٹی کے پارلیمانی گروپ میں اجلاس میں شرکت نہ کرنے والے اراکین کے خلاف کارروائی کی دھمکی دے دی، جس کے بعد اراکین نے تشویش کا اظہار کیا۔
پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں بھیجے گئے پیغام میں محمد ریاض نے واضح کیا کہ آج کے اجلاس میں کسی بھی رکن کی غیر حاضری کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور اجلاس میں شامل نہ ہونے والے اراکین کے خلاف قانونی اور پارٹی کی کارروائی کی جائے گی۔
محمد ریاض نے کہا کہ پارٹی نظم و ضبط کے قیام کے لیے یہ قدم ضروری ہے اور اراکین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اجلاس میں مکمل شرکت کو یقینی بنائیں۔
تاہم اس دھمکی پر پارٹی کے بعض اراکین نے سوال اٹھایا کہ محمد ریاض کس حیثیت میں یہ پیغام دے رہے ہیں اور یہ دھمکیاں کس کے کہنے پر کی جا رہی ہیں۔
معروف رکن داوڑ کنڈی نے کوآرڈینیٹر سے براہِ راست وضاحت طلب کی اور کہاآپ کون ہوتے ہیں یہ دھمکیاں دینے والے؟ ہمیں واضح طور پر بتائیں یہ پیغام کس کی ہدایت پر بھیجا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فیصل کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر اپنی خاموشی توڑ دی
پارلیمانی گروپ میں ایم این ایز، ایم پی ایز اور سینیٹرز شامل ہیں، اور اراکین نے اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کی سیاست میں شفافیت اور رکنیت کی آزادی کو برقرار رکھا جانا چاہیے اور غیر ضروری دھمکیوں سے پارٹی کے اتحاد پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
پی ٹی آئی کے اس اجلاس کے معاملے نے صوبائی قیادت اور پارٹی کے دیگر عہدیداروں کے درمیان بھی ایک بحث کو جنم دیا ہے، جس میں پارٹی نظم و ضبط اور اراکین کی آزادانہ رائے کے درمیان توازن قائم کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔





