واشنگٹن/بیجنگ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں عالمی سطح کے اہم مسائل پر بات چیت کی گئی۔
امریکی صدر نے اس گفتگو کو شاندار قرار دیا اور کہا کہ صدر شی کے ساتھ تجارت، فوجی امور، تائیوان، روس و یوکرین تنازع اور ایران کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اور چین کے درمیان تیل، گیس، زرعی مصنوعات، اور طیاروں کے انجنوں کی ترسیل سمیت کئی تجارتی امور پر بھی گفتگو ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے یہ بات چیت انتہائی اہم ہے۔
چینی میڈیا کے مطابق صدر شی نے گفتگو کے دوران تائیوان کے معاملے کو سب سے حساس قرار دیا اور امریکا کو مشورہ دیا کہ تائیوان کے ساتھ اسلحے کے معاہدے میں انتہائی احتیاط سے کام لیا جائے۔
دوسری جانب چینی صدر اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان بھی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں ایران، یوکرین اور دیگر عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران-امریکا جوہری مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق مسقط میں ہوں گے
کریملن کے مطابق صدر پیوٹن نے چین کے دورے کی دعوت قبول کر لی ہے، جس سے روس-چین تعلقات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی اور چینی صدور کے درمیان یہ رابطہ عالمی سیاست میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، فوجی اور جغرافیائی مسائل پر اعتماد سازی کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔





