اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ہمشیرہ مریم ریاض وٹو نے پارٹی کے سینیٹر مشال یوسفزئی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی پارٹی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے اپنے پیغام میں مریم ریاض وٹو نے کہا کہ عمران خان نے واضح ہدایات دی تھیں کہ اگر مشال یوسفزئی نے اپنا رویہ درست نہ کیا تو ان کی پارٹی رکنیت ختم کر دی جائے۔
انہوں نے اس حوالے سے پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب ان ہدایات پر عملدرآمد کا وقت آ گیا ہے۔
مریم ریاض وٹو نے مشال یوسفزئی کے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں دیے گئے بیان پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی اپنی بہنوں سے جو بھی بات ہوئی ہے، وہ ان کا ذاتی اور خاندانی معاملہ ہے۔
مریم ریاض وٹو نے مزید کہا کہ آج جب عمران خان کی صحت سے متعلق پارٹی کارکنان اور عوام میں تشویش ہے، ایسے حساس وقت میں توجہ ہٹانے کے لیے شوشے چھوڑے جا رہے ہیں اور جان بوجھ کر ایک نیا تنازع پیدا کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی میں یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات کے باعث پارٹی رہنماؤں نے احتجاج اور دھرنا دیا۔
یہ بھی پڑھیں : مشال یوسفزئی کا سیاسی مستقبل خطرے میں، پی ٹی آئی کا موقف سامنے آ گیا
بعد ازاں مشال یوسفزئی نے ایک نجی ٹی وی چینل پر دعویٰ کیا کہ عمران خان کے اہلِ خانہ نے سلمان اکرم راجہ سے رابطہ کر کے دھرنا ختم کرنے کی ہدایت دی، جس کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔
پی ٹی آئی قیادت نے مشال یوسفزئی کے دعوے کو سختی سے مسترد کیا۔ سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے عمران خان کی بہن علیمہ خان سے منسوب دھرنا ختم کرنے کے متعلق باتوں کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا۔
سلمان اکرم راجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ مشال یوسفزئی کے خلاف سخت ایکشن 8 فروری کے بعد لیا جائے گا۔





