سیف امریکا ایکٹ کے تحت غیر امریکی شہری ووٹر لسٹ سے نکالے جائیں گے، ترجمان وائٹ ہاؤس

واشنگٹن : وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سیف امریکا ایکٹ کے تحت غیر امریکی شہریوں کو ووٹر لسٹ سے خارج کرنے کے اقدامات کر رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق اس قانون کا مقصد ملک کو محفوظ بنانا اور جرائم میں ملوث غیر قانونی تارکین وطن کو پہچان کر ان کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ گزشتہ مہینوں میں امریکا میں غیر قانونی داخلے کے کوئی نئے کیسز نہیں سامنے آئے، اور ڈی ایچ ایس، امیگریشن فورس اور بارڈر پٹرول ملک کی حفاظت کے لیے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رواں ہفتے چار امریکی شہری غیر قانونی تارکین وطن کے ہاتھوں ہلاک ہوئے، جس کے بعد انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام غیر قانونی تارکین وطن کو ملک سے باہر نکالا جائے گا۔

ترجمان نے کہا کہ ڈیموکریٹس کو سیف امریکا ایکٹ پر حمایت کرنی چاہیے تاکہ ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔

کیرولائن لیوٹ نے پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ کا بیان بھی پڑھ کر سنایا، جس میں پاک-بھارت جنگ بندی اور سفارتکاری کی اہمیت کا ذکر کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر معاملے میں سفارتکاری صدر ٹرمپ کی اولین ترجیح ہے، تاہم غیر قانونی تارکین وطن کے حوالے سے موقف سخت ہی رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران-امریکا جوہری مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق مسقط میں ہوں گے

انہوں نے مزید بتایا کہ منی سوٹا میں حالات مقامی حکومت کے تعاون نہ کرنے کی وجہ سے خراب ہوئے، جبکہ ڈیموکریٹ پارٹی ٹرمپ مخالف ایجنڈے پر سرگرم ہے۔ صدر ٹرمپ ملک بھر میں جاری مقامی انتخابات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ ہوم لینڈ سکیورٹی اور امیگریشن فورس کی فنڈنگ پر ڈیموکریٹس کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، اور ہارورڈ یونیورسٹی کے ساتھ بھی غیر قانونی سرگرمیوں کے تدارک کے لیے بات چیت ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق ہارورڈ کے کیمپس پر غیر قانونی سرگرمیاں گزشتہ عرصے سے جاری ہیں اور انتظامیہ انہیں روکنے کے لیے سرگرم ہے۔

Scroll to Top