خواجہ آصف نے افغانستان میں کارروائی کا بڑا اشارہ دیدیا، رمضان سے پہلے فیصلہ متوقع

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح اشارہ دیا ہے کہ پاکستان رمضان سے پہلے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ افغانستان سے دہشتگردی کا سلسلہ رک نہیں رہا اور اگر وہ صرف تماشائی ہیں تو شریک جرم ہیں۔

یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہی، جہاں انہوں نے پاکستان کی سیکورٹی صورتحال اور افغان طالبان کے ساتھ رابطوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

خواجہ آصف نے کہاحتمی وقت نہیں بتا سکتا، لیکن یہی کہوں گا جتنا جلدی ہو ریسپانس دینا پڑے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا کہ دوسرے دن افغانستان سے دہشتگرد پاکستان میں حملہ کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تھرڈ پارٹیز مذاکرات میں شامل ہیں اور انہیں بھی سمجھنا چاہیے کہ تاخیر کے نقصانات براہِ راست پاکستان کو اٹھانے پڑ رہے ہیں۔

وزیر دفاع نے بتایا کہ افغان طالبان عبوری حکومت سے کسی نہ کسی طریقے سے رابطہ برقرار رکھتے ہیں۔ خواجہ آصف کے مطابق اگر طالبان کسی بھی طریقے سے واپس آنا چاہتے ہیں یا کسی اور جگہ آباد ہونا چاہتے ہیں تو حل نکالا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان تحریری گارنٹی نہیں دے سکتے، صرف زبانی وعدہ کر سکتے ہیں، اور خطے میں امن کے لیے تمام ممالک کو افغانستان کے امن کی ضمانت دینی ہوگی، جس کے تحت مالی امداد کے آپشن بھی زیرِ غور آ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : نیپرا کے نیٹ بلنگ کے فیصلے پر بیرسٹر علی ظفر کا سخت ردعمل

خواجہ آصف نے ملکی سیاسی صورتحال پر بھی بات کی اور کہاملکی صورتحال میں فوج سویلین حکومت کو مکمل سپورٹ کر رہی ہے، دہشتگردی کے خلاف فوج کے جوان قربانیاں دے رہے ہیں، اور سیاسی و ملٹری اداروں کو شانہ بشانہ کام کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بہترین انداز میں کام کر رہی ہے، اور کم از کم وفاق اور خیبر پختونخواہ کی حکومت دہشتگردی کے خلاف ایک پیج پر ہیں، جبکہ دیگر صوبے بھی اس اتحاد میں شامل ہو رہے ہیں۔

وزیر دفاع نے نواز شریف کی سیاسی جدوجہد پر بھی روشنی ڈالی اور کہانواز شریف کی سیاست بذات خود ثبوت ہے کہ انہوں نے لمبا سفر طے کیا ہے۔ 99 اور 93 میں ان کے سیاسی اعتماد کو سب نے دیکھا۔ ہم نے اپنے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

Scroll to Top