خیبرپختونخواحکومت رواں سال ضم قبائلی اضلاع سمیت صوبے بھرمیں 7ہزارمساجدودینی مدارس کوشمسی توانائی پرمنتقلی کے2اہم شمسی توانائی منصوبوں کو مکمل کرلے گی ۔
منصوبوں سے صوبے کے غریب عوام کوسالانہ70کروڑروپے سے زائد کی بچت کے ساتھ ساتھ مجموعی طورپر15میگاواٹ بجلی کی پیداوارسے 8لاکھ40ہزارنمازی حکومتی عوامی فلاحی اقدام سے مستفید ہونگے۔
سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمدکی زیرصدارت سالانہ ترقیاتی پروگرام کے سلسلے میں صوبے کے بندوبستی اضلاع میں 5000مساجدودینی درس گاہوں کو شمسی توانائی پر منتقلی سمیت قبائلی ضم شدہ اضلاع میں 2000مساجد کوسولرائزڈ کرنے کے 2اہم شمسی توانائی کے جاری منصوبوں پرہونے والی پیشرفت سے متعلق اجلاس منعقد کیا گیا۔
اجلاس میں سپیشل سیکرٹر ی توانائی وبرقیات حبیب عارف،سینئرچیف پلاننگ آفیسرظاہرشاہ،پراجیکٹ ڈائریکٹرسولرپراجیکٹس انجینئراسفندیارخان،منصوبوں پر کام کرنے والی حکومتی کمپنی نیشنل ریڈیوٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشنNRTC کے نمائندوں علم خان،حیدرخان،عامرآفریدی سمیت دیگراعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے صوبے کے مختلف بندوبستی اضلاع میں جاری 5ہزارمساجد کوشمسی توانائی پر منتقلی کے منصوبے جس کی لاگت5.86ارب روپے ہے پرکام تیزی سے جاری ہے جس میں اب تک 2400مساجد کوشمسی توانائی پرمنتقل کردیا گیاہے جبکہ باقی ماندہ2600مساجد کوشمسی توانائی پررواں سال منتقل کرلیا جائے گا۔
اسی طرح ضم شدہ اضلاع کی 2000مساجد میں سے 600مساجد کوشمسی توانائی پر منتقل کرلیا گیا ہے جبکہ منصوبے کی باقی1400مساجد کو رواں سال کامیابی کے ساتھ شمسی توانائی پرمنتقل کرلیا جائے گا۔
اس موقع پر سیکرٹری توانائی وبرقیات نثاراحمد نے شمسی توانائی کے دونوں اہم منصوبوں کے لئے فنڈزکی بروقت فراہمی کے ساتھ ساتھ باقی ماندہ کام مقررہ ٹائم لائن کے اندرمکمل کرنے پرزوردیااورہدایت جاری کی کہ رمضان کے دوران مساجد میں سولرانرجی کی متواترفراہمی کے سلسلے میں کمپلینٹ سیل کوموثربنایا جائے۔
اجلاس میں متعلقہ حکام نے دونوں اہم منصوبوں پر کام مزید تیزکرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کا عزم دہرایا۔
اس موقع پرپراجیکت ڈائریکٹرانجینئراسفندیارنے ٹھیکہ دارفرم کو منصوبے کی بروقت ومعیاری تکمیل ممکن بنانے کے لئے ضروری ہدایات جاری کیں۔





