خیبر پختونخوا حکومت کا توانائی منصوبوں کیلئے 438 ملین ڈالر قرض لینے کا فیصلہ

محمد اعجاز آفریدی
پشاور:خیبرپختونخوا حکومت نے توانائی کے منصوبوں یعنی پاور پراجیکٹس کےلئے 438 ملین امریکی ڈالر ورلڈ بینک، ملٹی لیٹرل ڈویلپمنٹ بینکس اور کمرشل بینکوں سے قرضہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد صوبے پر قرضوں کا مجموعی حجم تقریباً 967 ارب روپے سے تجاوز کر جائے گا۔

گزشتہ مالی سال 2024-25 کے دوران خیبرپختونخوا پر مجموعی قرضہ 679.54 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق اسی سال حکومت نے مزید 43.49 ارب روپے کا قرض حاصل کیا تھا۔رواں مالی سال 2025-26 میں خیبرپختونخوا حکومت نے 49 صوبائی منصوبوں کے لیے مزید 165 ارب 53 کروڑ روپے قرض لینے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے بعد مجموعی قرضہ 679 ارب روپے سے بڑھ کر تقریباً 845 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔

اس رقم میں سب سے زیادہ قرضہ ورلڈ بینک سے 81 ارب اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے 72 ارب روپے سے زائد شامل ہے۔

محکمہ انرجی اینڈ پاور کے دو مزید منصوبوں کے لئے 438 ملین امریکی ڈالر، یعنی تقریباً 122 ارب روپے زائد کا اضافی قرض لینے کی باقاعدہ منظوری صوبائی کابینہ کی قائمہ کمیٹی دے چکی ہے۔

یہ رقم بیرونی مالیاتی اداروں اور کمرشل بینکوں سے حاصل کی جائے گی۔ اس نئے قرض کے بعد صوبے کے مجموعی قرضوں کا حجم بڑھ کر تقریباً 967 ارب روپے ہو جائے گا۔

دستیاب شواہد کے مطابق صوبائی حکومت نے توانائی کے شعبے میں متعدد ہائیڈرو پاور منصوبے شروع کیے ہیں، جن میں گبرال کالام، مدین، بالاکوٹ، لاوی اور گورکن مٹلتان شامل ہیں تاہم صوبائی کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس کی دستاویزات سے ان منصوبوں کے مالی اور انتظامی مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پانچ بڑے منصوبوں کی مجموعی لاگت تقریباً 955.1 ملین ڈالر بنتی ہے، جبکہ صوبائی حکومت نے صرف 132.9 ملین ڈالر کی ابتدائی ایکویٹی فراہم کی ہے۔ ورلڈ بینک کے کے ایچ آر ای پروگرام کے تحت 215.6 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی گئی ہے، مزید 185 ملین ڈالر کمرشل فنانسنگ اور 253.3 ملین ڈالر ترقیاتی بینکوں سے حاصل کیے جا رہے ہیں۔

اس طرح زیر تعمیر منصوبوں کی پیش رفت بھی سامنے آئی جس سے ترقی کی رفتار پر سوال اٹھ گئے ہیں۔ بالاکوٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جس کی استعداد 300 میگاواٹ ہے، صرف 27 فیصد مکمل ہو سکا ہے۔ لاوی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ 69 میگاواٹ کے ساتھ 60 فیصد تک پہنچا ہے جبکہ گورکن یا متیلتان ہائیڈرو پاور پراجیکٹ 84 میگاواٹ کے ساتھ 88 فیصد مکمل بتایا گیا ہے۔ اس کے باوجود حکومت نئے مہنگے منصوبوں کے لئے مزید قرض لینے کی تیاری کر رہی ہے۔

دستاویز میں یہ اعتراف بھی موجود ہے کہ 2022 کے سیلاب کے بعد ڈیزائن میں تبدیلیوں اور موسمیاتی تحفظ کے اقدامات کی وجہ سے منصوبوں کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے مجموعی مالی حجم مزید بڑھ گیا۔

دونوں بڑے منصوبوں کی مشترکہ فنانسنگ تقریباً 955 ملین ڈالر تک جا پہنچی ہے، جس میں آئی ڈی اے اور آئی بی آر ڈی سمیت مختلف عالمی مالیاتی اداروں کے قرضے، کمرشل فنانسنگ اور نجی سرمایہ کاری شامل ہے۔

دستیاب شواہد کے مطابق وزیر اعلی کے مشیر خزانہ نے اضافی 438 ملین ڈالر صوبائی فنڈنگ فراہم کرنے سے معذرت کرتے ہوئے محکمہ توانائی کو ہدایت دی ہے کہ یہ رقم ورلڈ بینک، ملٹی لیٹرل ڈویلپمنٹ بینکس، کمرشل بینکوں یا نجی شعبے سے متبادل ذرائع سے حاصل کی جائے تاکہ صوبائی خزانے پر براہ راست بوجھ نہ پڑے۔

دستاویزات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پیڈو کی نصب شدہ بجلی کی بڑی صلاحیت وفاقی گرڈ کو فراہم کی جا رہی ہے جبکہ صوبہ خود لوڈشیڈنگ اور توانائی بحران کا شکار ہے۔
پیڈو کا دعوی ہے کہ وہ جولائی 2025 سے اپنی آمدنی سے قرضوں کی ادائیگی کرے گاتاہم محکمہ توانائی کے ذرائع کے مطابق محدود آمدنی کے باعث یہ ہدف حاصل کرنا مشکل ہے اور قرضوں پر سود کا بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے جس سے صوبے پر قرضوں کا حجم مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کے اعداد و شمار کے مطابق 2013 میں خیبرپختونخوا پر قرضوں کا حجم 130 ارب روپے تھا۔ بعد ازاں قرضوں میں مسلسل اضافہ ہوا اور مالی سال 2018-19 میں یہ 227.9 ارب، 2019-20 میں 256.4 ارب، 2020-21 میں 296 ارب اور 2022-23 میں 454.35 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

گزشتہ مالی سال میں یہ بڑھ کر 679 ارب روپے ہوا، رواں سال 165 ارب روپے کے اضافے سے 845 ارب روپے تک پہنچا، اور اب مزید 122 ارب روپے کے قرض کے بعد مجموعی حجم تقریباً 967 ارب روپے ہو جائے گا۔

اس سلسلے میں مشیر برائے خزانہ خیبرپختونخو امزمل اسلم کے سامنے تین سوالات رکھے گئے ، ایک سوال یہ ہے کہ صوبہ پہلے ہی بڑے مالی دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں پیڈو کے منصوبوں کے لئے مزید 438 ملین ڈالر قرض لینے کی مالی گنجائش اور ادائیگی کا عملی پلان کیا ہے؟

مزمل اسلم کے سامنے دوسرا سوال یہ رکھا گیا کہ کیا یہ قرضے رعایتی شرائط پر ہیں یا کمرشل بنیادوں پر؟ اور کیا مستقبل میں ان کی واپسی کا بوجھ صوبائی بجٹ پر منتقل ہوگا؟ اور تیسرا سوال یہ تھاکہ پیڈو کی موجودہ آمدنی محدود ہے اور کئی منصوبے تاخیر کا شکار ہیں، تو حکومت کس بنیاد پر پراعتماد ہے کہ پیڈو خود اپنے وسائل سے یہ قرضے واپس کر سکے گا؟جس پرمشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے وضاحت دیتے ہوئے کہاکہ” 384ملین ڈالر کا یہ قرض نیا نہیں بلکہ 2020 میں ورلڈ بینک سے منظور شدہ پرانا قرض ہے اور متعلقہ منصوبے بھی پہلے سے جاری ہیں۔

ان کے مطابق منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے اور صرف مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی لاگت 400 ملین ڈالر سے زائد بڑھ چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ مزید صوبائی فنڈز فراہم نہیں کیے جائیں گے۔ پیڈو حکام کی اپنی ورکنگ اور انٹرنل ریٹ آف ریٹرن کے مطابق یہ منصوبے اپنی آمدنی سے قرض واپس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے اگر وہ خود ریونیو سے ادائیگی کر سکتے ہیں تو صوبائی حکومت اضافی وسائل فراہم نہیں کرے گی اور متبادل ذرائع سے فنڈنگ حاصل کی جا سکتی ہے۔

مزمل اسلم نے بتایا”یہ قرض بجٹ فنانسنگ کے لیے نہیں بلکہ سرمایہ کاری، خصوصاً گرین انرجی انویسٹمنٹ کے لیے لیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول ڈیم جیسے بڑے منصوبے دنیا بھر میں قرض لے کر ہی مکمل کیے جاتے ہیں، جبکہ حکومت 132 ملین ڈالر کی ایکوٹی پہلے ہی فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ” 122 ارب روپے کا قرض ایک ساتھ نہیں بڑھے گا بلکہ منصوبوں پر کام کی پیش رفت کے مطابق مرحلہ وار حاصل کیا جائے گا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاہدہ ہوتے ہی پورا قرض صوبے پر چڑھ جائے گا۔

مشیر خزانہ کے مطابق صوبہ اس سال قرضوں کی ادائیگی کی مد میں تقریباً 60 ارب روپے ادا کر رہا ہے، جس کی ماہانہ قسط 5 ارب روپے بنتی ہے اور گزشتہ دو برسوں کے دوران ایسا کوئی قرض نہیں لیا گیا جو اپنی ادائیگی کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔

Scroll to Top