مہوش قماس خان
اسلام آباد: اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینئر قیادت کے احتجاج کے چوتھے روز کے بعد پولیس نے خیبر پختونخواہ ہاؤس کے راستے کھول دیے اور خاردار تاریں ہٹا دی گئیں۔ پولیس کی نفری بھی پیچھے ہٹ گئی، جس کے بعد علاقے میں معمولات بحال ہوئے۔
واضح رہے کہ احتجاج کا آغاز پی ٹی آئی کی بانی عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش کے پیش نظر ہوا تھا۔
مظاہرین نے پشاور سے اسلام آباد موٹر وے سمیت دیگر اہم راستے بند کر دیے تھے، جس میں جی ٹی روڈ بھی مکمل طور پر بند تھا۔
احتجاج کے دوران اسلام آباد پولیس نے خیبر پختونخواہ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور پارلیمنٹ ہاؤس کو مکمل سیل کر دیا تھا اور خاردار تاریں نصب کی تھیں تاکہ احتجاج کو روکا جا سکے۔
کل عمران خان کا باقاعدہ چیک اپ کیا گیا، جس میں ان کی صحت بالکل ٹھیک بتائی گئی ہے۔ صرف آنکھ میں معمولی مسئلہ بتایا گیا، جس کے بعد حالات پر ایک حد تک سکون واپس آیا۔
پولیس کی جانب سے رات کے تین بجے خاردار تاریں ہٹانے کے بعد احتجاجی راستے کھول دیے گئے اور عوام اور کارکنان کو معمول کے مطابق آمد و رفت کی اجازت دی گئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مکمل اقدامات جاری ہیں۔
یہ صورتحال عمران خان کی صحت کے حوالے سے جاری تشویش کے دوران پیدا ہونے والے احتجاج کی شدت اور اس کے خاتمے کی نشاندہی کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل ، میڈیکل ٹیم واپس روانہ ہو گئی
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہم اپنی عوام کے تحفظ اور سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، تاکہ عوام کسی بھی مشکل میں نہ رہیں اور ہر قسم کی سہولت میسر ہو۔
پی ٹی آئی کا احتجاج تاحال جاری ہے، لیکن یہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے کیونکہ پارٹی کی قیادت خود تین گروپوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔
پارٹی کی قیادت ہمیشہ عوام کو سڑک پر تنہا چھوڑ دیتی ہے۔پی ٹی آئی سالوں سے خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہی ہے، لیکن ابھی تک ایک بھی ترقیاتی کام مکمل نہیں کیا گیا۔





