پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا، عمران خان کی صحت سے متعلق بڑا فیصلہ

اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی معائنے کے حوالے سے نہ تو جیل سپرنٹنڈنٹ اور نہ ہی کسی انتظامی اہلکار کی جانب سے ان سے کوئی رابطہ کیا گیا ہے۔

ایک بیان میں بیرسٹر گوہر علی خان نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے فیملی ممبران یا ذاتی معالجین کی میڈیکل بورڈ کے ساتھ معائنے میں شمولیت سے متعلق کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ شروع سے ان کا مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کے لیے تشکیل دیے جانے والے میڈیکل بورڈ میں ان کے ذاتی معالجین کو بھی شامل کیا جائے اور معائنے کے دوران خاندان کے کسی فرد کو موجود ہونے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ اور اپوزیشن اتحاد کا بھی یہی مؤقف ہے کہ عمران خان کو جلد از جلد الشفا ہسپتال منتقل کر کے ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں مکمل معائنہ کرایا جائے۔

دوسری جانب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے واضح کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا احتجاج عمران خان کی صحت کے تحفظ کے لیے ہے اور مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔

اسد قیصر نے کہا کہ وہ گزشتہ تین دن سے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر موجود ہیں اور تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے طویل جدوجہد کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا ہاؤس کے راستے کھلے، خاردار تاریں ہٹا دی گئیں، عمران خان کی صحت سے جڑا راز سامنے آ گیا

ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ان کا تعلق ایک مقصد کے تحت ہے اور اسی مقصد کے لیے وہ احتجاج کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ محمود خان اچکزئی نے قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین کو مشاورت کے لیے بلایا تھا، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔

پی ٹی آئی قیادت کا کہنا ہے کہ جب تک بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی معائنے اور علاج سے متعلق ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رہے گا۔

Scroll to Top