شانگلہ: کابل گرام کے بہادر پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا

سہیل خان

شانگلہ: کابل گرام میں فتنہ الخوارج کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے پولیس اہلکاروں کی نمازِ جنازہ پولیس لائن الپوری میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔

اس موقع پر پاک فوج، پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کے علاوہ معززینِ علاقہ، سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

نمازِ جنازہ کے دوران شہداء کی بہادری اور قربانی کو یاد کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی گئی۔

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا اور شہداء کے مشن کو ہر حال میں جاری رکھا جائے گا۔

حکام نے کہا کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ملک کی حفاظت اور عوام کے تحفظ کے لیے لازمی ہیں اور ان کی شجاعت اور فرض شناسی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ نمازِ جنازہ کے موقع پر حفاظتی اقدامات سخت تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

شہداء کے اہل خانہ اور مقامی شہریوں نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اپنے لختِ جانوں کی قربانی کو فراموش نہیں کریں گے اور ملک دشمن عناصر کے خلاف ہر وقت سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : شانگلہ: سی ٹی ڈی، ایلیٹ فورس اور ضلعی پولیس کا مشترکہ ٹارگٹڈ کامیاب آپریشن، تین دہشت گرد ہلاک، تین جوان شہید

خیبر پختونخوا کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے افسران کی قیادت میں مقامی پولیس اور ایلیٹ فورس نے کبل گرام کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں ایک اہم اور مؤثر مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن انجام دیا۔

یہ کارروائی فتنۃ الخوارج (FAK) کے تشکیل شدہ گروہ کی موجودگی کے مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اہم قومی منصوبوں کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے تھے۔

خفیہ ذرائع کے مطابق یہ انتہائی مطلوب دہشت گرد قدرتی غاروں میں چھپے ہوئے تھے اور مقامی سطح پر سہولت کاری میسر تھی۔

ماضی میں یہ گروہ چینی باشندوں پر VBIED حملوں میں بھی ملوث رہا اور شاہراہِ ریشم کے نزدیک ہونے کے باعث یہ سٹرٹیجک روڈ کوریڈور اور چینی منصوبوں کے لیے مستقل خطرہ تھا۔ اسی تناظر میں سی ٹی ڈی اور ضلعی پولیس نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کارروائی کا آغاز کیا۔

جب پولیس غاروں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی طرف بڑھی تو شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس دوران تین دہشت گرد ہلاک ہوئے جن میں نور اسلام عرف سلمان عرف خوگ بچہ، ولد زمان ولی، جو کبل گرام کا سرغنہ تھا اور جس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر تھی، شامل ہیں۔

ایک نامعلوم دہشت گرد بھی ہلاک ہوا جبکہ تیسرے نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس کے بعد باقی شرپسند ایک ڈھلوان کے نیچے پناہ لینے میں کامیاب ہو گئے، جہاں انہیں نشانہ بنانا مشکل تھا۔

یہ بھی پڑھیں : باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، خوارج کا بزدلانہ حملہ ناکام، 12 دہشت گرد ہلاک

سی ٹی ڈی اور ایلیٹ فورس کے جوانوں نے گرفتاری کے لیے پیش قدمی جاری رکھی تو دہشت گردوں کے دیگر ساتھیوں نے آر پی جی اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا تاکہ اپنے ساتھیوں کو فرار کرایا جا سکے، مگر سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کر کے حملے کو پسپا کر دیا۔

تاہم اس کارروائی میں پولیس کے تین جوان شہید ہو گئے جن میں ایل ایچ سی مقبول احمد (نمبر 438)، ایل ایچ سی فدا حسین اور ایل ایچ سی سعید الرحمان شامل ہیں، جبکہ ایلیٹ فورس کا ایک جوان زخمی ہوا جو زیر علاج ہے۔

کبل گرام میں اس منظم نیٹ ورک کی موجودگی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ گروہ خطے کے سٹرٹیجک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، جسے بروقت کارروائی سے ناکام بنایا گیا۔ علاقے میں سرچ آپریشن اور سیکیورٹی فورسز کی نگرانی بدستور جاری ہے۔

انسپکٹر جنرل ذوالفقار حمید نے آپریشن میں شہید اور زخمی ہونے والے جوانوں کی بہادری کی داد دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے کبھی پیٹھ نہیں دکھائی اور ہمیشہ قوم کے لیے اپنی جان کی قربانی دی ہے۔

اس کارروائی سے نہ صرف دہشت گردوں کے منصوبے ناکام ہوئے بلکہ خطے میں سیکیورٹی اور اہم انفراسٹرکچر کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا۔

Scroll to Top