اسلام آباد: ممبر قومی اسمبلی معروف سیاستدان شیر افضل مروت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں خیبر پختونخوا ہاؤس آمد سے متعلق گردش کرنے والی خبروں اور قیاس آرائیوں کی سختی سے تردید کی ہے۔
واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ آج میرا کے پی ہاؤس جانا نہ کوئی رسمی ملاقات تھی، نہ کسی دھرنے میں شرکت اور نہ ہی کسی سیاسی سرگرمی کا حصہ۔
میری حاضری کا واحد مقصد اپنے دوست علی امین خان گنڈاپور سے ملاقات اور اُنہیں خراجِ احترام پیش کرنا تھا۔
میں عہدوں کے ساتھ نہیں، قدروں کے ساتھ کھڑا…— Sher Afzal Khan Marwat (@sherafzalmarwat) February 16, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ آج ان کا پختونخوا ہاؤس جانا نہ کوئی رسمی ملاقات تھی، نہ کسی دھرنے میں شرکت اور نہ ہی کسی سیاسی سرگرمی کا حصہ۔
ان کے مطابق ان کی حاضری کا واحد مقصد اپنے دوست اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور سے ملاقات اور انہیں خراجِ احترام پیش کرنا تھا۔
اپنے بیان میں شیر افضل مروت نے کہا کہ وہ عہدوں کے ساتھ نہیں بلکہ قدروں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ میں کرسیوں کا اسیر نہیں، کردار کا قدردان ہوں۔
میرے لیے منصب کی چمک سے زیادہ انسان کی وسعتِ قلب، برداشت اور وفاداری اہم ہے، انہوں نے لکھا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذکورہ ملاقات خالصتاً گنڈاپور صاحب کی ذات سے متعلق تھی اور اس پر کسی قسم کی سیاسی تشریح یا قیاس آرائی بے بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ ہر ملاقات میں سازش تلاش کرتے ہیں، وہ دراصل اپنے ظرف کا اظہار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : صوابی میں احتجاج کا چوتھا روز، موٹر وے بند، مسافر بے بسی کی تصویر بن گئے
شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ وہ اُن لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں جو دوستی نبھانا جانتے ہیں، مشکل وقت میں ساتھ دیتے ہیں اور اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھتے ہیں۔
بڑے عہدے انسان کو بڑا نہیں بناتے، بڑا ظرف انسان کو بڑا بناتا ہے، انہوں نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا۔
بیان کے اختتام پر انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی کو اس ملاقات میں سیاست نظر آتی ہے تو یہ اُس کی سوچ کا زاویہ ہو سکتا ہے، تاہم ان کی نیت صاف، مقصد واضح اور ترجیح ہمیشہ انسانیت، وقار اور قدروں کے ساتھ رہنا ہے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ منصب کے نہیں بلکہ مروّت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایک اسٹیج، دو راستے، شیر افضل مروت کی آمد پر وزیراعلیٰ دھرنا چھوڑ کر بھاگ نکلے
یاد رہے کہ اسلام آباد میں پختونخوا ہاؤس کے باہر جاری دھرنے کے دوران آج غیر معمولی صورتحال دیکھنے میں آئی جب شیر افضل مروت وہاں پہنچے۔ عینی شاہدین کے مطابق ان کی آمد پر محمد سہیل خان آفریدی فوری طور پر اپنی نشست سے اٹھے اور دھرنا چھوڑ کر بھاگ نکلے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ کا مؤقف ہے کہ جو شخص بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ مخلص نہیں، اس کے ساتھ بیٹھنا بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔
وزیر اعلیٰ کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ یہ فیصلہ وقتی ردعمل نہیں بلکہ اصولی مؤقف کا عملی اظہار تھا۔ ان کے مطابق جماعت کے اندر وفاداری اور قیادت کے ساتھ مکمل وابستگی بنیادی شرط ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
اس پیش رفت کو پارٹی کے اندر جاری اختلافات کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں بعض بیانات اور رویوں نے قیادت سے وفاداری کے سوال کو دوبارہ موضوعِ بحث بنایا ہے، جس کے اثرات پارٹی کی اندرونی صف بندی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
دھرنے کے شرکاء کے مطابق وزیر اعلیٰ کا فوری واک آؤٹ کارکنان میں مایوسی پھیل گئی، پاکستان تحریک انصاف ہر بار دھرنوں یا جلسوں میں عوام اور کارکنان کو سڑک پر اکیلے چھوڑ کر قیادت خودبھاگ جاتے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی رہنمائوں کا جھوٹ بے نقاب، اسد قیصر ، مرزا آفریدی سمیت کون کون دھرنے میں شریک اراکین کو کھانا پہنچا رہا ہے؟ حماد حسن نے حقیقت بیان کر دی
جو چند کارکن تھے بیٹے تھے دھرنے وہ بھی وزیر اعلی سہیل آفریدی کی رویے کی وجہ سے دھرنا چھوڑ کر نکل گئے۔
تاحال شیر افضل مروت کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم وزیر اعلیٰ کی بھاگ جانے کی خبر نے سیاسی فضا کو گرم کر دیا ہے اور اسے آئندہ دنوں کی سیاست میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔





