پنجاب حکومت کی جانب سے 11 ارب روپے مالیت کا جہاز خریدنے کے فیصلے پر سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے اس اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے عوامی مفاد کے برعکس قرار دیا ہے۔
مزمل اسلم نے اپنے ردعمل میں کہا کہ 13 کروڑ آبادی والے صوبے کے لیے 19 نشستوں والا جہاز خریدنا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’یہ ہوتی ہے گورننس‘‘۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک معمول کی نو میٹر بس میں بھی تقریباً 50 نشستیں ہوتی ہیں، جبکہ 19 نشستوں والے جہاز پر 1,100 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس منصوبے کے اخراجات کو دیکھا جائے تو ائیر پنجاب کے ایک مسافر پر تقریباً 58 کروڑ روپے خرچ آئیں گے، جبکہ مرمت، ایندھن اور عملے کے اخراجات اس کے علاوہ ہوں گے۔
مزمل اسلم نے مطالبہ کیا کہ عوام کے ٹیکس سے کیے جانے والے ایسے فیصلوں پر شفافیت ہونی چاہیے اور حکومت کو وضاحت دینی چاہیے کہ یہ اقدام کس بنیاد پر کیا گیا۔
دوسری جانب پنجاب حکومت کی طرف سے اس خریداری کے حوالے سے باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر بحث کا سلسلہ جاری ہے۔





