اسلام آباد: سینئر صحافی محمد مالک نے کہا ہے کہ اگلے 72 گھنٹے افغان طالبان کے لیے انتہائی مشکل اور بھاری ثابت ہو سکتے ہیں۔
محمد مالک نے نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اگلے ایک سے دو گھنٹوں کے اندر پاکستان کی جانب سے طالبان کے خلاف فضائی ردعمل متوقع ہے۔
اس کارروائی میں ڈرونز اور فضائیہ کے طیارے استعمال کیے جائیں گے تاکہ طالبان کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام افغان طالبان کی حالیہ جارحیت اور سرحدی خلاف ورزیوں کے جواب میں کیا جا رہا ہے، اور پاکستان نے پہلے بھی سخت فضائی کارروائی اور سرحدی جھڑپوں کے ذریعے اپنی سکیورٹی قائم رکھی ہے۔
حالیہ دنوں میں سرحدی علاقوں میں طالبان کی گولہ باری اور پاکستانی فورسز کے جوابی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : آپریشن غضب للحق: 133 خارجی ہلاک، 200 زخمی، 27 پوسٹیں تباہ، 80 سے زائد ٹینکس اور ہیڈکوارٹرز بھی تباہ
یاد رہے کہ پاک فوج نے آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد اہم دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کے 133 خارجی ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ کابل، پکتیا اور قندھار میں دشمن کے دفاعی اہداف کو تباہ کیا گیا ہے۔ مزید ہلاکتوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
آپریشن کے دوران افغان طالبان کی 27 پوسٹیں تباہ کی گئی ہیں اور 9 پوسٹوں پر پاک فوج نے قبضہ کر لیا ہے۔
علاوہ ازیں دشمن کے دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرزاور 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز تباہ کر دیے گئے ہیں۔
پاک فوج کی مؤثر جوابی کارروائیاں سرحدی تحفظ اور ملک کے دفاع کے لیے جاری ہیں۔
عطا تارڑ نے ٹویٹر پر کہا آپریشن غضب للحق میں پاک فوج نے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔ یہ کارروائیاں ہمارے سرحدی دفاع اور قومی سلامتی کے لیے اہم ہیں۔ دشمن کی کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔





