پاک فوج کی بھرپور فضائی کارروائی، کابل کے فوجی کمپاؤنڈ میں دھماکوں کی ویڈیو وائرل

اسلام آباد: کابل میں پاکستانی فضائی کارروائی کے مبینہ حملے کے حوالے سے میڈیا اور مسلح افواج کی جانب سے جاری ویڈیو میں دو دھماکے دکھائی دیے ہیں۔

یہ حملے کابل کے مشرق میں واقع پلِ چرخی علاقے کے سب سے بڑے فوجی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنانے کے طور پر رپورٹ کیے جا رہے ہیں، جو کابل ننگرہار ہائی وے کے قریب واقع ہے۔

ویڈیو اور جغرافیائی تجزیے کے مطابق دونوں دھماکے کمپاؤنڈ میں موجود لمبے، ہینگر نما ڈھانچوں کو نشانہ بناتے نظر آئے۔ پہلے دھماکے کی اطلاع شمالی حصے سے ملتی ہے، جبکہ دوسرا دھماکہ مشرقی جنوب مشرقی حصے میں ہوا۔

رپورٹ کے مطابق دھماکوں کے مبینہ جغرافیائی نقاط درج ذیل ہیں:
شمالی دھماکہ: 34.561032, 69.367823
جنوب مشرقی دھماکہ: 34.564363, 69.369704

اب تک نہ تو پاکستانی حکام نے اور نہ ہی افغان حکام نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے، اور نہ ہی کسی ممکنہ جانی نقصان یا تباہی کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔

اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو یہ واقعہ پاکستان افغانستان سرحد کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران علاقائی سلامتی کے منظرنامے میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : الحمدللہ: نہ کوئی چوکی قبضے میں آئی، نہ کوئی فوجی پکڑا گیا اور نہ کوئی جوان شہید ہوا، مشرف زیدی

جبکہ دوسری جانب ترجمان وزیر اعظم برائے بین الاقوامی میڈیا مشرف زیدی نے کہا ہے کہ آپریشن غضب للحق میں پاکستان نے افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں بھرپور کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

مشرف زیدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی متعدد پوسٹس کو نشانہ بنایا اور دشمن کو شدید نقصان پہنچایا۔

ترجمان کے مطابق الحمدللہ پاکستانی چوکیوں پر قبضہ نہیں ہوا، نہ کوئی نقصان پہنچا اور نہ ہی کوئی پاکستانی فوجی شہید یا گرفتار ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے دعوے کسی حد تک ہندوستانی پراکسی کے مفروضات سے زیادہ نہیں ہیں۔

مشرف زیدی نے واضح کیا کہ پاکستان ہر جارحیت کا فوری اور مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہے اور مسلح افواج ملک کی سرحدی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں۔

Scroll to Top