سینیٹ نے افغان طالبان کی جارحیت کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی

سینیٹ آف پاکستان نے ملک کی مغربی سرحد پر افغانستان کی جارحیت کے خلاف متفقہ مذمتی قرار داد منظور کر لی ہے۔

قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی قوم کے وقار اور خودمختاری کے اصول پر کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب متناسب اور مؤثر انداز میں دیا جائے گا۔

قرارداد میں پاکستان کی مسلح افواج کی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ افواجِ پاکستان ہر دور میں وطن کے دفاع کے لیے ثابت قدم رہیں۔

سینیٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ گزشتہ 40 برسوں سے پاکستان کو غیر معمولی سماجی، معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے جنوبی وزیرستان کے مقابل افغانستان کے پکتیا صوبے میں پانچ پوسٹوں پر قبضہ کر لیا

قرار داد میں افغانستان کی سرحد پار دراندازی اور پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کی موجودگی کو دوطرفہ مفاہمت کے برخلاف رویے کی عکاسی قرار دیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ افغانستان فوری طور پر تمام معاندانہ اقدامات روکے اور اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔

پاکستان نے اپنے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری اور خطے میں استحکام کے فروغ کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور عالمی برادری افغانستان کے غیر سنجیدہ رویے کا فوری نوٹس لے۔

سینیٹ نے عزم ظاہر کیا کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی دفاع کے لیے متحد کھڑا ہے۔

Scroll to Top