یورپی یونین نے پاکستان اور افغانستان سے تعلقات میں موجود کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزیپ بورل نے جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی تشدد کی لہر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔
کایاکلاس نے افغان ڈی فیکٹو حکام سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف فوری کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں استحکام اور امن کے لیے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں فوری کمی ضروری ہے۔
اس پیش رفت کے دوران ترکیہ نے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ تنازعہ حل کرنے کے لیے رابطہ کاری کی۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فدان نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سے فون پر بات کی اور بعد ازاں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے رابطہ کیا۔
ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی دونوں ممالک کے درمیان مصالحت اور تعلقات بہتر بنانے کے لیے مخلصانہ کردار ادا کرنے کی پیشکش کی۔
یاد رہے کہ اس صورتحال کے تناظر میں عالمی برادری پاکستان اور افغانستان سے امن قائم رکھنے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں کرنے پر زور دے رہی ہے، تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔





