بھارتی میڈیا نے فیک نیوز کا بازار گرم کر دیا

بھارتی میڈیا نے فیک نیوز کا بازار گرم کر دیا

پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے اگلی پوسٹوں پر بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں آپریشن غضب للحق کے تحت متعدد افغان صوبوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، افغان طالبان کے کئی ٹھکانوں کو کابل، قندھار، پکتیا، ننگرہار، خوست اور لغمان میں تباہ کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائیاں انتہائی عین نشانے بازی اور موثر حکمت عملی کے تحت کی گئی ہیں۔

دوسری جانب، طالبان نے سوشل میڈیا پر اپنی جوابی کارروائیوں میں کامیابی کے بڑے دعوے کرنا شروع کر دیے، جن میں ایک پاکستانی لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کا بھی ذکر کیا گیا۔ بھارتی میڈیا نے اسے بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا، حالانکہ یہ مواد AI جنریٹڈ ویڈیو یا پرانی فوٹیج پر مبنی تھا۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے صورتحال کو کھلی جنگ قرار دیا۔ عالمی میڈیا، بشمول بی بی سی، نے تصدیق کی کہ پاکستان نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس میں کوئی شہری نہیں مارا گیا۔ بی بی سی کے مطابق یہ حملے مکمل طور پر درستگی اور محدود نقصان کے ساتھ کیے گئے۔

بھارتی میڈیا میں اس دوران غیر مصدقہ دعوئوں اور سنسنی خیزی کی لہر دوڑ گئی۔ این ڈی ٹی وی، انڈیا ٹوڈے، ہندوستان ٹائمز، دی ہندو، ٹائمز آف انڈیا سمیت کئی میڈیا ہاؤسز نے طالبان کے دعوے کو نشر کیا، جبکہ یہ دعوے بعد میں جھوٹے یا AI سے تیار شدہ مواد ثابت ہوئے۔ کچھ رپورٹس میں پرانی ویڈیوز کو نئے حملوں سے جوڑ کر پیش کیا گیا، اور بعض میں مقامات غلط دکھائے گئے تاکہ حقیقت کو مسخ کیا جا سکے۔

پاکستانی فیکٹ چیکرز اور آزاد ذرائع نے اس مہم کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے جھوٹی خبریں پھیلانا نہ صرف سچائی کو مسخ کرتا ہے بلکہ امن کے اقدامات اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کوششوں کو بھی پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس دوران عوام کو غیر مصدقہ اور جھوٹی خبروں پر یقین نہیں کرنا چاہیے، اور میڈیا اداروں کو ہر خبر کی تصدیق کے بعد ہی نشر کرنا چاہیے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ تیار ہیں، اور آپریشن غضب للحق جاری رہے گا جب تک تمام اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔

Scroll to Top