امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایک حملے میں شہید ہو گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے انہیں تاریخ کے سب سے خطرناک اور برے افراد میں سے قرار دیا اور کہا کہ یہ نہ صرف ایرانی عوام کے لیے انصاف ہے بلکہ ان تمام عالمی شہریوں کے لیے بھی ہے جو خامنہ ای اور ان کے گروہ کے ہاتھوں قتل یا معذور ہوئے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ خامنہ ای جدید انٹیلی جنس اور ٹریکنگ سسٹمز سے بچنے میں ناکام رہے اور اسرائیل کے تعاون کے باوجود وہ یا ان کے دیگر رہنما کچھ نہ کر سکے، ان کے مطابق یہ ایرانی عوام کے لیے اپنی ملکیت واپس لینے کا سب سے بڑا موقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی آئی آر جی سی، فوج اور دیگر سکیورٹی فورسز اب لڑائی میں دلچسپی نہیں رکھتی اور امریکی افواج سے معافی یا تحفظ کی درخواست کر رہی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اب انہیں تحفظ مل سکتا ہے بعد میں صرف موت ملے گی۔
صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ آئی آر جی سی اور پولیس پرامن طریقے سے ایرانی وطن پرستوں کے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور ملک کو دوبارہ اس عظمت تک پہنچانے کے لیے متحد ہو کر کام کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے متعلق خبر بے بنیاد قرار، رائٹرز کا تردیدی بیان سامنے آگیا
امریکی صدر نے کہا ایک دن میں خامنہ ای کی موت کے ساتھ ملک میں بھی کافی حد تک تباہی آئی ہے اور بھاری بمباری جاری ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ بمباری ہفتے بھر یا جب تک ضرورت ہو بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی تاکہ مشرق وسطیٰ اور دنیا میں امن قائم ہو سکے۔





