سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ایرانی صدر کا ردعمل، اہم بیان سامنے آ گیا

سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ایرانی صدر کا ردعمل، اہم بیان سامنے آ گیا

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی حملے میں شہادت کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دفتر سے ایک اہم بیان جاری کر دیا گیا ہے۔

صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ سپریم لیڈر کا قتل صیہونی رجیم کا سب سے بڑا جرم ہے اور اس جرم کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔

ایرانی صدر نے مزید کہاعظیم رہنما کا پاک خون صیہونی ظلم کا خاتمہ کرے گا، اور اس جرم کے منصوبہ سازوں کو پچھتانے پر مجبور کیا جائے گا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملے میں سپریم لیڈر کے ساتھ ان کی فیملی کے پانچ افراد بھی شہید ہوئے، جن میں ان کا بیٹا، بیٹی، بہو، داماد اور نواسی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی اور میجر جنرل محمد پاکپور بھی اسی حملے میں شہید ہوئے۔

سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ایران بھر میں 40 روزہ سوگ اور سات روزہ تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔

صدر مسعود پزشکیان کے بیان سے یہ واضح ہوا ہے کہ ایران کے لیے اس واقعے کی سنگینی نہ صرف داخلی بلکہ عالمی سطح پر بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے، اور ایران اپنے رہنما کے قتل کا حساب لینے کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔

Scroll to Top