اسلام آباد سمیت پانچ اضلاع میں بڑا سرچ آپریشن، غیر قانونی افغان شہری اور مشتبہ افراد گرفتار کرلیے ۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت راولپنڈی، مری، جہلم اور چکوال میں ریاستی رٹ کے مؤثر نفاذ اور حالیہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سکیورٹی اداروں کی جانب سے مشترکہ سرچ اینڈ کومبنگ آپریشنز کیے گئے۔ ان کارروائیوں کا مقصد شہری و دیہی علاقوں میں مرحلہ وار اسکریننگ اور چیکنگ کے ذریعے غیر قانونی طور پر مقیم افراد اور مشتبہ عناصر کے خلاف کارروائی کرنا تھا۔
حکام کے مطابق ان آپریشنز میں پولیس، لیڈی پولیس، ایلیٹ فورس، ڈولفن فورس، رینجرز، سی ٹی ڈی اور انٹیلیجنس اداروں سمیت مجموعی طور پر کم از کم 392 اہلکاروں نے حصہ لیا۔ کارروائیوں کے دوران مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر چیکنگ کی گئی اور متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔
اسلام آباد میں باری امام چوک اور تھرڈ ایونیو کے اطراف کچی آبادیوں میں مشترکہ سرچ آپریشن کے دوران 197 گھروں، 342 افراد، 51 گاڑیوں اور 70 موٹر سائیکلوں کی چیکنگ کی گئی۔ کارروائی کے دوران 15 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ بغیر دستاویزات 10 موٹر سائیکلیں بھی برآمد کی گئیں۔
اسی طرح راولپنڈی کے فوجی کالونی اور خیابان سرسید کے علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران 57 گھروں، 118 دکانوں، 282 افراد، دو ہوٹلوں اور 43 موٹر سائیکلوں کی جانچ پڑتال کی گئی۔ اس کارروائی میں پولیس، لیڈی پولیس، ایلیٹ فورس، ڈولفن اسکواڈ، سی ٹی ڈی اور انٹیلیجنس اداروں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔
مری کے کوٹلی ستیاں بازار، ملوٹ، کلدانہ اور جنرل بس اسٹینڈ کے اطراف کیے گئے آپریشن میں 32 گھروں، 29 دکانوں، 260 افراد، 55 ہوٹلوں اور 56 گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی جبکہ چار غیر قانونی افغان شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔
ضلع جہلم میں چیتاں، روہتاس روڈ، ماڈل بازار، سول لائنز اور جہلم سٹی کے علاقوں میں خصوصی سرچ آپریشن کے دوران 171 گھروں اور 379 افراد کی چیکنگ مکمل کی گئی۔ کارروائی کے دوران آٹھ غیر قانونی افغان شہری گرفتار کیے گئے، چار مقدمات درج کیے گئے جبکہ دو منشیات فروشوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ایک شخص کو کرایہ داری قوانین کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔
دوسری جانب ضلع چکوال کے چکوال سٹی، صدر چکوال، ڈھوڈیال، نیلہ، کلر کہار اور ونہار کے علاقوں میں بھی بڑے پیمانے پر چیکنگ کی گئی۔ یہاں 96 گھروں اور 203 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی جبکہ دو غیر قانونی افغان شہری گرفتار کیے گئے اور فارنرز ایکٹ کے تحت ایک مقدمہ درج کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ریاستی موقف واضح ہے کہ پاکستان میں قیام صرف قانونی بنیادوں پر ممکن ہے اور غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں کے خلاف کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔ سکیورٹی اداروں کے مطابق آئندہ بھی سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اس نوعیت کے سرچ اور کومبنگ آپریشنز جاری رکھے جائیں گے تاکہ امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔





