ایران کی مجلس خبرگان نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب پر اکثریتی اتفاق رائے حاصل کر لیا ہے اور ایک امیدوار بھی چن لیا گیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ انتخاب مرحوم سپریم لیڈر کی اس ہدایت کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے کہ ان کا جانشین ایسا ہو جس سے دشمن نفرت کرے۔
مجلس خبرگان کے رکن آیت اللہ محمد مہدی میرباقری کے مطابق نئے سپریم لیڈر کے تعین کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اس معاملے پر اکثریتی اتفاق رائے قائم ہو چکا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر کے انتخاب میں ابھی کچھ رکاوٹیں موجود ہیں جنہیں دور کرنا باقی ہے۔
ایران کے آئین کے تحت 88 ارکان پر مشتمل مجلس خبرگان کو ملک کے سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار حاصل ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای جو تقریباً 37 سال تک ایران کے سپریم لیڈر رہے، 28 فروری کو تہران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کو آیت اللہ خامنہ ای کا جانشین مقرر کرنے کا اعلان
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ وہ مجلس خبرگان کے ہر اس رکن کو نشانہ بنائے گی جو خامنہ ای کے جانشین کے تقرر کے عمل میں شریک ہوگا۔
اسرائیلی فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر فارسی زبان میں جاری بیان میں کہا کہ جانشین کے انتخاب کے اجلاس میں شرکت کرنے والوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ انہیں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔





