صحافی حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے رہنما نور ولی محسود مبینہ طور پر کابل کے سفارتی علاقے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
صحافی حامد میر ان کے مطابق افغان طالبان نے نہ صرف نور ولی محسود بلکہ گل بہادر، بشیر زیب اور دیگر مرکزی ایشیائی ممالک کے مطلوب دہشت گردوں کو بھی پناہ دے رکھی ہے۔
کچھ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے ان مطلوب افراد کو کابل کے گرین زون میں چھپایا ہے، جس میں وزیر اکبر خان کا علاقہ بھی شامل ہے۔
ان افراد کی موجودگی سفارتکاروں کے مکانات کے قریب ایک سنگین خطرہ پیدا کر سکتی ہے، جس سے عالمی سطح پر تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر دہشت گرد قرار دیے گئے افراد کی کابل میں موجودگی اقوام متحدہ کے عملے اور کچھ غیر سرکاری تنظیموں کے لیے بھی ناقابلِ قبول ہے۔
ان تنظیموں اور اداروں نے طالبان حکومت کے سامنے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس صورتِ حال کی وجہ سے کئی غیر ملکی سفارتکار کابل چھوڑ سکتے ہیں۔





