ایرانی ڈرون حملہ، بحرین کی سب سے بڑی آئل ریفائنری سے دھواں اٹھنے لگا

ایرانی ڈرون حملہ، بحرین کی سب سے بڑی آئل ریفائنری سے دھواں اٹھنے لگا

خلیجی ملک بحرین میں ایرانی ڈرون حملے کے بعد ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کے علاقے سے دھواں اٹھنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق دارالحکومت منامہ کے قریب واقع ریفائنری کی سمت سے گہرا دھواں بلند ہوتا دیکھا گیا، جس سے قریبی علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

حکام کے مطابق سِترا کے علاقے میں ہونے والے اس حملے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ بحرینی وزارتِ صحت نے بتایا کہ حملے میں 32 شہری زخمی ہوئے، جن میں سے 4 کی حالت نازک ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر کے طبی امداد دی جا رہی ہے۔

یہ ریفائنری بحرین کی سب سے بڑی آئل ریفائنری ہے اور ملک کے توانائی کے شعبے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جس کی وجہ سے اس حملے کو ملکی توانائی کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور نقصان اور زخمیوں کی مکمل تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب United Arab Emirates نے تصدیق کی ہے کہ ان کا فضائی دفاعی نظام فعال ہے اور ممکنہ میزائل حملوں کو کامیابی کے ساتھ روکا جا رہا ہے۔

اسی دوران غیر ملکی خبر ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ عراق کے Erbil Airport کے قریب امریکی فوجی اڈے کو بھی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ڈرون حملوں کے بڑھتے واقعات عالمی توانائی مارکیٹ اور خطے کی سیکیورٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں، اور بین الاقوامی برادری کو فوری طور پر صورتحال پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

Scroll to Top