وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملک میں معاشی استحکام اور کفایت شعاری کے لیے انقلابی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت نے باضابطہ طور پر چار روزہ ورکنگ ویک پالیسی نافذ کر دی ہے۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب سرکاری دفاتر ہفتے میں صرف چار دن (پیر سے جمعرات) کھلیں گے جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو تعطیل ہوگی۔
اس مہم کے تحت گریڈ 20 اور اس سے زائد یا تین لاکھ روپے سے زائد تنخواہ لینے والے تمام افسران کی تنخواہوں میں دو دن کی رضاکارانہ کٹوتی کی ہدایت بھی کی گئی ہے، تاہم اس کٹوتی کا اطلاق شعبہ صحت اور تعلیم کے ملازمین پر نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے عالمی معاشی صورتحال کے تناظر میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر اقدامات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کفایت شعاری کے اقدامات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
تمام وزارتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری گاڑیوں کے استعمال کو بند کریں اور ان کی تصاویر کابینہ ڈویژن کو ارسال کریں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کی ہر ممکن کوشش ہے کہ سنگین عالمی حالات کے باوجود ملکی معیشت کو مستحکم رکھا جائے، اسی سلسلے میں ورک فرام ہوم کو موثر بنانے کے لیے تمام وزارتوں سے تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔





