ایران میں پھنسے پاکستانیوں سے متعلق بڑی پیش رفت

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث ایران میں موجود پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق منگل کے روز بلوچستان کی سرحدی گزرگاہوں تفتان بارڈر اور گبد ریمدان بارڈر کے ذریعے مجموعی طور پر 532 افراد ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے، جن میں بڑی تعداد پاکستانی شہریوں کی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ واپس آنے والوں میں 326 پاکستانی شہری شامل ہیں، جبکہ باقی افراد کا تعلق ایران اور دیگر ممالک سے ہے۔ ایران میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر پاکستانی شہریوں، خصوصاً طلبا کی وطن واپسی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق چاہ بہار سے آنے والے 106 پاکستانی شہری، جن میں 15 طلبا بھی شامل تھے، گبد ریمدان بارڈر کے ذریعے پاکستان پہنچے اور بعد ازاں انہیں گوادر منتقل کیا گیا۔

اس موقع پر نقیب اللہ کاکڑ، جو ضلعی انتظامیہ گوادر کے ڈپٹی کمشنر ہیں، نے بتایا کہ اسی راستے سے پانچ ایرانی شہری بھی پاکستان میں داخل ہوئے۔

دوسری جانب تفتان بارڈر کے ذریعے منگل کے روز مجموعی طور پر 421 افراد پاکستان پہنچے۔ ان میں 220 پاکستانی شہری شامل تھے جن میں 166 طلبا بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ 190 ایرانی ڈرائیور اور 13 دیگر ایرانی شہری بھی اسی سرحدی راستے سے پاکستان میں داخل ہوئے۔

وفاقی حکام کے مطابق ایرانی ڈرائیور عموماً ایران سے مال بردار گاڑیاں لے کر تفتان آتے ہیں، جہاں سامان اتارنے کے بعد وہ واپس ایران چلے جاتے ہیں، اسی وجہ سے سرحدی آمدورفت میں ان کی بڑی تعداد شامل ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاک فوج کی کاوشوں سے یونیورسٹی آف لسبیلا کی بسوں کی مرمت مکمل، وائس چانسلر، فیکلٹی اور طالبات کا اظہار تشکر

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دس روز کے دوران ایران سے تین ہزار دو سو سے زائد پاکستانی شہری وطن واپس آ چکے ہیں۔ واپس آنے والوں میں طلبا کی بڑی تعداد شامل ہے، جنہیں ترجیحی بنیادوں پر وطن منتقل کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق ایران سے آنے والے غیر ملکی شہریوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اب تک 78 ایرانی شہریوں کے علاوہ ایک چینی، دو برطانوی اور دو کینیڈین شہری بھی پاکستان پہنچ چکے ہیں، جبکہ دیگر ممالک کے 16 افراد بھی سرحدی راستوں کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔

متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت بلوچستان اور دیگر ادارے ایران سے آنے والے افراد کو سرحدی علاقوں میں رہائش، خوراک اور طبی سہولیات سمیت تمام ضروری سہولتیں فراہم کر رہے ہیں، جبکہ ان کی رجسٹریشن کے بعد انہیں محفوظ طریقے سے ملک کے مختلف شہروں کی جانب روانہ کیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top