امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران کے خلاف جاری فوجی مہم میں غیر معمولی اضافے کا عندیہ دیا ہے۔
صدر نے کہا کہ آنے والے دنوں میں امریکی افواج اپنے حملوں میں مزید تیزی لائیں گی اور اگلے ہفتے سے ایران پر سخت کارروائیاں متوقع ہیں۔
تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بدلتے ہوئے حالات کے پیشِ نظر وہ کسی بھی لمحے اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کی گنجائش رکھتے ہیں۔
انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ سے ایران کے معاشی مرکز ‘خارگ جزیرے’ پر ممکنہ قبضے یا حملے سے متعلق سوال کیا گیا۔
اس پر صدر نے اسٹریٹجک رازداری کا حوالہ دیتے ہوئے براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ فوجی منصوبوں کو عوامی سطح پر بیان کرنا ان کی ترجیح نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالات کسی بھی وقت نیا رخ اختیار کر سکتے ہیں۔
خارگ جزیرہ ایران کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ ملک کی 90 فیصد خام تیل کی برآمدات اسی راستے سے ہوتی ہیں، اس لیے اس علاقے پر کسی بھی حملے کے ممکنہ اثرات عالمی سطح پر گہرے ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کو ایران کو باور کرانا ہوگا کہ بلاوجہ عرب ممالک سے دشمنی نہ کرے، حسین حقانی
اسی دوران اسلام آباد میں سیکیورٹی اداروں نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایک مشکوک ڈرون کو فوری کارروائی کے ذریعے ناکارہ بنا دیا۔
واقعے کے بعد حساس علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے اور متعلقہ حکام ڈرون کی آمد کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ ڈرون کی آمد سے پیدا ہونے والا خطرہ بروقت کارروائی کے ذریعے ختم کر دیا گیا، اور شہری علاقوں میں کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات خطے میں موجود کشیدگی اور سلامتی کے خدشات کی عکاسی کرتے ہیں۔





