امریکی صدر نے ایران کا افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی پیشکش مسترد کر دی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کی روسی پیشکش مسترد کر دی ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یہ تجویز امریکی صدر کو دی تھی، جسے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے حصے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

رپورٹس میں بتایا گیا کہ یہ پیشکش رواں ہفتے دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے دوران سامنے آئی، جو مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے یہ تجویز پہلے بھی دی جا چکی تھی، لیکن امریکا نے ماضی میں بھی اسے قبول نہیں کیا۔

اس دوران امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے مزید جنگی جہاز اور تقریباً پانچ ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران میں 1348 افراد جاں بحق اور 17 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان کے ڈرون حملے ناکام بنا دیے، آئی ایس پی آر

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے اقدامات اور کشیدگی کے پیش نظر امریکا خطے میں اپنے مفادات اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں دونوں رہنماؤں کے رابطے کو عالمی سطح پر اہم سمجھا جا رہا ہے، لیکن ٹرمپ کی جانب سے روس کی پیشکش کو مسترد کرنا علاقائی اور عالمی سیاست میں نئے اثرات ڈال سکتا ہے۔

Scroll to Top