خیبر پختونخوا میں ڈرون حملوں کی اطلاعات کے بعد سکیورٹی اداروں نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور مختلف اضلاع میں فضائی نگرانی اور حساس تنصیبات کی حفاظت مزید سخت کر دی گئی ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی اور ڈرون سرگرمیوں کے پیش نظر صوبے کے مختلف علاقوں میں نگرانی کے نظام کو فعال کر دیا گیا ہے۔
پشاور سمیت اہم شہروں میں حساس مقامات، سرکاری عمارتوں اور عسکری تنصیبات کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پشاور کی فضائی حدود کے حوالے سے بھی مختلف اطلاعات گردش کر رہی ہیں، تاہم فضائی حدود مکمل طور پر بند کیے جانے کی باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی غیر معمولی فضائی سرگرمی کی صورت میں فوری کارروائی کے لیے فضائی اور زمینی سکیورٹی نظام الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق جدید جنگی حالات میں ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے پیش نظر سرحدی علاقوں اور اہم شہروں میں فضائی نگرانی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
سیکیورٹی اداروں کی جانب سے پیشگی اقدامات اور ہائی الرٹ صورتحال کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت ناکام بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پر بھی ڈرون حملوں اور فضائی سرگرمیوں کے حوالے سے مختلف دعوے اور ویڈیوز گردش کر رہی ہیں، تاہم حکام شہریوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری معلومات پر اعتماد کریں۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید حفاظتی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔





