وفاقی حکومت نے کفایت شعاری اقدامات کے تحت بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اعلیٰ سرکاری افسران کی تنخواہوں میں دو ماہ کے لیے 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی کرنے کا اعلان کر دیا۔
اعلامیے کے مطابق تین سے دس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے افسران کی تنخواہوں سے دو ماہ کے لیے 5 فیصد کٹوتی کی جائے گی جبکہ دس سے بیس لاکھ روپے تنخواہ لینے والے افسران کی تنخواہ میں دو ماہ کے لیے 15 فیصد کمی کی جائے گی۔
اسی طرح بیس سے تیس لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے افسران کی تنخواہ سے 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی جبکہ تیس لاکھ روپے سے زائد تنخواہ لینے والے افسران کی تنخواہ میں دو ماہ کے لیے 30 فیصد تک کمی کی جائے گی۔
حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ سرکاری اداروں اور نجی کمپنیوں کے بورڈز میں شامل حکومتی نمائندوں کو اجلاسوں میں ملنے والی بورڈ فیس بھی آئندہ دو ماہ کے لیے ایک خصوصی فنڈ میں جمع کرائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عید سے پہلے خوشخبری، مارچ کی تنخواہ کب ملے گی؟
اعلامیے کے مطابق کفایت شعاری اقدامات سے حاصل ہونے والی رقم عوامی سہولت اور فلاحی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد مالی نظم و ضبط کو بہتر بنانا اور عوامی فلاح کے منصوبوں کے لیے وسائل فراہم کرنا ہے۔





