ایران پر 28 فروری سے جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایرانی شہریوں کے جانی نقصان کی تعداد بڑھ کر 1,444 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ حملے انسانی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں، جبکہ عالمی برادری کی طرف سے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 826 افراد شہید ہو چکے ہیں اور 2,000 سے زائد افراد زخمی ہیں۔ غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں جاری جنگ کے دوران اب تک 11 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جو اس تنازع کی شدت اور پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری تشدد کی لہر عراق تک بھی پہنچ چکی ہے، جہاں تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 26 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطے میں کشیدگی کی موجودہ لہر نہ صرف ایران اور لبنان بلکہ اردگرد کے ممالک پر بھی مہلک اثر ڈال رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے حملے انسانی بحران کو جنم دیتے ہیں، جس کے باعث متاثرہ ممالک میں بنیادی سہولیات کی کمی، نقل و حمل کے مسائل اور صحت کے نظام پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور متاثرین کے لیے امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
اس دوران خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن بڑھتی ہوئی ہلاکتیں اور فوجی کارروائیاں حالات کو مزید نازک بنا رہی ہیں۔





