وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت گورننس سے متعلق ویڈیو لنک اجلاس میں صوبے میں گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت حاصل شدہ اہداف اور نتائج پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت کی کوششوں سے سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مؤثر اور جوابدہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ عوام کو بروقت اور معیاری سہولیات فراہم کر کے عوامی اعتماد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں کیش لیس پیمنٹ انیشیٹیو کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ملک کی تاریخ میں پہلی بار ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ 2025 کی کابینہ سے منظوری حاصل ہو گئی ہے۔ اس کے تحت 100 سے زائد خدمات کو ڈیجیٹائز کیا گیا ہے، جن میں فرد اور انتقالات کی خدمات بھی شامل ہیں۔
صوبائی انتظامیہ نے ضم اضلاع اور بندوبستی علاقوں میں اہم اصلاحات کی ہیں، جن میں 500 سرکاری سکولوں کی آؤٹ سورسنگ، 150 بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز کو 24 گھنٹے چائلڈ برتھ سنٹرز میں تبدیل کرنا، اور خالی آسامیوں پر 2400 میڈیکل آفیسرز کی بھرتی کے لیے سمری کی منظوری شامل ہے۔
اس کے علاوہ ضم اضلاع میں ڈیڑھ لاکھ جنگلی زیتون کے درختوں کو یورپی اقسام میں تبدیل کیا گیا، 700 واٹر کورسز کی اپگریڈیشن مقامی لوگوں کی شراکت سے مکمل کی گئی، اور یتیم بچوں اور بیوہ خواتین کو ماہانہ 5 ہزار روپے فی کس فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
صوبے میں تعلیمی شعبے کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے اور سرکاری و نجی اداروں میں زیر تعلیم 3500 طلباء کو سکالرشپس فراہم کی گئی ہیں۔ ای سمری اور ای آفس کے اجراء سے اب تک 1500 سے زائد سمریاں اور 600 سے زائد فائلیں وصول اور ارسال کی جا چکی ہیں۔
سہیل آفریدی نے اجلاس میں ہدایت دی کہ گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت اصلاحاتی اقدامات کو مزید تیز کیا جائے اور عوام کو شفاف، مؤثر اور بروقت خدمات فراہم کرنے کے لیے تمام ادارے مکمل تعاون کریں۔





