’’آپریشن غضب للحق‘‘ افغان طالبان رجیم کے 684 کارندے ہلاک، 912 زخمی، 252 چیک پوسٹیں تباہ

وزارت اطلاعات و نشریات نے آپریشن غضب للحق کے تازہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔

وزارت اطلاعات کے مطابق آپریشن غضب للحق کے دوران افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کو سنگین نقصانات پہنچائے گئے ہیں۔

وزارت اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ کارروائی میں افغان طالبان رجیم کے 684 کارندے ہلاک اور 912 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ 252 چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئیں۔

اس کے علاوہ 44 چوکیاں قبضے میں لے کر تباہ کی گئی اور 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی تباہ کر دی گئیں۔

 افغانستان بھر میں 73 دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔

وزیر اطلاعات کے مطابق 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب پاکستان کی مسلح افواج نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور مختلف عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

کارروائیوں کے دوران قندھار میں موجود تکنیکی معاونت کے بنیادی ڈھانچے اور اسلحہ و سازوسامان کے ذخیرہ گاہ کو بھی تباہ کر دیا گیا، جسے افغان طالبان اور دہشت گرد معصوم پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: کوہاٹ میں دہشتگردی کی جڑیں کاٹ دی گئیں! سی ٹی ڈی اور پولیس کے مشترکہ آپریشن میں 6 دہشتگرد ہلاک

قندھار میں ایک سرنگ بھی تباہ کی گئی جس میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کا تکنیکی سازوسامان موجود تھا۔

اسی طرح چترال سیکٹر میں افغان علاقے کی بدینی پوسٹ پر موجود دہشت گردوں کے جمپ آف پوائنٹ کو زمینی کارروائی کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔

Scroll to Top