وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے سرحدی ضلع باجوڑ میں افغان طالبان کی جانب سے سرحد پار گولہ باری کے نتیجے میں چار شہری شہید جبکہ ایک پانچ سالہ بچہ شدید زخمی ہو گیا۔
وزیر اطلاعات کے مطابق 15 مارچ کو سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے افغانستان کی جانب سے توپ خانے اور مارٹر گولوں کے ذریعے تحصیل سالارزئی کے علاقے تبستہ لیٹئی میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا، گولہ باری کے دوران ایک رہائشی مکان پر گولہ گرنے سے چار افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ ایک کمسن بچہ شدید زخمی ہو گیا۔
✅ 15 March 2026
Attack on innocent civilians by Afghan Taliban Regime in Bajaur
▪️ Today on 15th of March 2026 around 1530 hours, Afghan Taliban regime deliberately targeted civilian population through artillery / mortar fire from across the border in Tabesta Letai, Salarzai… pic.twitter.com/M8PdBra2eN
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) March 15, 2026
عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والوں کی شناخت ساجد، ایاز، ریاض اور معاذ کے ناموں سے ہوئی ہے اور چاروں آپس میں حقیقی بھائی تھے، واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور مقامی لوگوں نے اس حملے کی سخت مذمت کی ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ شہری آبادی کو دانستہ نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے، یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے کے خلاف آپریشن غضب لِلحق کے تحت کارروائیاں کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان کے پروپیگنڈا کا پردہ فاش، وزارت اطلاعات نے حقائق جاری کر دیے
ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد ذمہ دار ٹھکانوں کے خلاف فوری اور مؤثر جوابی کارروائی بھی کی جا رہی ہے، ذرائع کے مطابق سرحدی علاقوں میں حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کیے جانے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔





