وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مزید مؤثر اور جوابدہ بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے اسلام آباد سے ویڈیو لنک کے ذریعے گورننس سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں گڈ گورننس روڈ میپ کے تحت اب تک حاصل کیے گئے اہداف اور پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں کیش لیس پیمنٹ انیشیٹیو کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈیجیٹل پیمنٹ ایکٹ 2025ء کی صوبائی کابینہ سے منظوری بھی دی جا چکی ہے۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ صوبے میں 100 سے زائد سرکاری خدمات کو ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے جبکہ بندوبستی اور ضم اضلاع میں 500 سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ مکمل کر لی گئی ہے
صحت کے شعبے میں پیش رفت سے متعلق آگاہ کیا گیا کہ 150 بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز کو 24 گھنٹے فعال چائلڈ برتھ سینٹرز میں تبدیل کیا گیا ہے، جبکہ خالی آسامیوں پر 2400 میڈیکل آفیسرز کی بھرتی کے لیے سمری بھی منظور کر لی گئی ہے۔
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ ضم اضلاع میں ڈیڑھ لاکھ جنگلی زیتون کے درختوں کو یورپی اقسام کے زیتون میں تبدیل کیا گیا ہے جبکہ مقامی کمیونٹی کی شراکت سے 700 واٹر کورسز کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔
سماجی بہبود کے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ 3177 یتیم بچوں اور 3380 بیوہ خواتین کو ماہانہ پانچ ہزار روپے فی کس فراہم کیے جا رہے ہیں جبکہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم 3500 طلبہ کو اسکالرشپس بھی دی جا رہی ہیں۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ ای سمری اور ای آفس نظام کے اجرا کے بعد اب تک 1500 سے زائد سمریاں اور 600 سے زائد فائلیں موصول اور ارسال کی جا چکی ہیں، جس سے دفتری امور میں شفافیت اور رفتار میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات کا مقصد سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور عوام کو معیاری سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ عوام کا حکومتی اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہو سکے۔





