وفاقی سرکاری اور حکومتی ملکیتی اداروں کے تقریباً 5 لاکھ ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں ممکنہ کٹوتیوں سے حکومت کو 10 ارب روپے جمع کرنے کا امکان ہے۔ سکیل 1 سے گریڈ 22 تک کے ملازمین کی مدت ملازمت اور بنیادی تنخواہ کے مطابق کم از کم 5 فیصد اور زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک کٹوتی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق گریڈ 1 کے ملازمین کی کم از کم بنیادی تنخواہ سے 5 فیصد کٹوتی 407 روپے اور زیادہ سے زیادہ 30 فیصد کٹوتی 7,935 روپے ہوگی۔ گریڈ 22 کے ملازمین کے لیے کم از کم 5 فیصد کٹوتی 3,666 روپے اور زیادہ سے زیادہ 30 فیصد کٹوتی 73,575 روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ہر گریڈ کے ملازمین کی بنیادی تنخواہ سے کٹوتیوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
گریڈ 1: 5% کٹوتی 407 روپے، 30% کٹوتی 7,935 روپے
گریڈ 5: 5% کٹوتی 457 روپے، 30% کٹوتی 11,949 روپے
گریڈ 10: 5% کٹوتی 542 روپے، 30% کٹوتی 17,745 روپے
گریڈ 15: 5% کٹوتی 723 روپے، 30% کٹوتی 27,930 روپے
گریڈ 20: 5% کٹوتی 3,089 روپے، 30% کٹوتی 59,745 روپے
گریڈ 22: 5% کٹوتی 3,666 روپے، 30% کٹوتی 73,575 روپے
یہ اقدام حکومت کی مالی پالیسی کے تحت اٹھایا جا رہا ہے تاکہ بجٹ میں توازن قائم کیا جا سکے۔ کٹوتیاں ملازمین کی بنیادی تنخواہوں پر ہوں گی اور دیگر مراعات متاثر نہیں ہوں گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق کٹوتیاں لاگو کرنے کے بعد ملازمین کے لیے مناسب نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔





