آبنائے ہرمز کی بندش،ٹرمپ کی ایک بار پھر اتحادیوں سے مدد کی اپیل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی موجودگی سے متعلق اپنے سابقہ بیان پر یوٹرن لیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ اس بات کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی کہ وہاں مائنز بچھائی گئی ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے چین، جاپان اور جنوبی کوریا پر زور دیا کہ وہ اس آبی گزرگاہ کو کھلوانے کے لیے اپنی فوجیں اور بحری جہاز بھیجیں کیونکہ ان ممالک کا تیل کی سپلائی کے لیے اس راستے پر انحصار امریکہ سے کہیں زیادہ ہے۔

صدر ٹرمپ نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ جاپان اپنی ضرورت کا 95 فیصد، چین 90 فیصد اور جنوبی کوریا 35 فیصد تیل آبنائے ہرمز سے حاصل کرتا ہے، جبکہ امریکہ کا یہاں سے ایک فیصد تیل بھی نہیں آتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ جو ممالک اس راستے سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اب انہیں ہی اس کے دفاع میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

صدر کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے ایران کی مائن بچھانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے اور ان کے تمام متعلقہ جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں۔

ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اب تک 7 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں زیادہ تر فوجی اور کمرشل تنصیبات تھیں۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی فوج کے اندرونی حالات کا پول کھل گیا، سپاہی کا تلخ حقائق پرمشتمل ویڈیو پیغام وائرل

انہوں نے بتایا کہ میزائل اور ڈرون بنانے کے تین اہم مراکز کی تباہی کے بعد ایران اب ان ہتھیاروں کو تیار کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے۔

صدر نے وارننگ دی کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولا گیا تو ایران کے خارک آئل آئی لینڈ کی تیل تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

اپنی گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے ماضی کی پیشگوئیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسامہ بن لادن، ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور ایران کی جوہری تنصیبات سے متعلق برسوں پہلے خطرات ظاہر کر چکے تھے جن پر اس وقت کسی نے یقین نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ دو ہفتے پہلے ایران ایک مضبوط ملک تھا مگر اب وہ محض ایک کاغذ کا شیربن کر رہ گیا ہے کیونکہ اس کے 100 سے زائد جہاز ڈبوئے جا چکے ہیں۔

انہوں نے اتحادیوں پر گلہ کیا کہ امریکہ ہمیشہ ان کا دفاع کرتا ہے مگر وہ بدلے میں ویسی مدد فراہم نہیں کرتے۔

Scroll to Top